تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 75
تحریک جدید - ایک الہی تحریک خطاب فرمودہ 07 جولائی 1985ء نگران ہیں۔آپ بلا امتیاز عمر احمدیت کے تمام نوجوانوں، بچوں اور مستورات کے نگران ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اعلیٰ کردار اور اعلیٰ صفات کے محافظ ہیں۔اگر آپ دیکھیں کہ بعض افراد کسی قسم کی کمزوری کی طرف مائل ہورہے ہیں تو آپ کے دل ودماغ میں فورا خطرہ کی گھنٹی بجنی چاہئے۔اور اس کو دور کرنے کے لئے مجلس انصار اللہ انفرادی اور اجتماعی طور پر ذمہ دار ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ماضی میں جماعت احمدیہ کے خلفاء بدی کو مٹانے اور نیکی کو قائم کرنے کا کام انصار اللہ کے سپرد کرتے رہے ہیں۔علاوہ از میں چونکہ اکثر اوقات خاندان کے سربراہ انصار اللہ کے اراکین ہوتے ہیں اور قوموں کی اصلاح کے کام کا آغاز خاندان کی اصلاح سے ہوتا ہے، اس لئے بھی انصار اللہ زیادہ ذمہ دار بن جاتے ہیں۔کسی بھی زاویہ سے دیکھیں، آپ کی عمر کے لوگ زیادہ ذمہ دار، زیادہ اثر انگیز اور زیادہ جواب دہ ثابت ہوتے ہیں۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر زیادہ ذمہ داریاں ڈالی ہیں، اس لئے اگر آپ انہیں صحیح طور پر ادا کرنے میں ناکام ہوں گے تو زیادہ جواب دہ بن جاتے ہیں۔ہماری خوش قسمتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں بار بار اس طرف توجہ دلائی ہے کہ مسلسل دعاؤں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت کو کھینچنے کی کوشش کرتے رہو۔اس پس منظر میں، میں آپ کو ایک نہایت اہم ذمہ داری کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔جس کے متعلق میرا خیال تھا کہ آپ اس ذمہ داری کو جماعت احمدیہ کی باقی تنظیموں کی نسبت زیادہ بہتر رنگ میں ادا کریں گے۔وہ اہم ذمہ داری غیر احمدیوں اور غیر مسلموں کو تبلیغ کرنے سے تعلق رکھتی ہے۔چند سال قبل پاکستان میں جب میں نے یہ کام شروع کیا تو اس کے بہت حوصلہ افزاء نتائج سامنے آئے۔اگر چہ کسی شخص کو ایسا مبلغ بنانا، جو دوسروں کے عقیدہ کو بدل سکے، ایک مشکل کام ہے۔لیکن قوموں کی ترقی اور اعلیٰ نتائج کے حصول کے لئے صبر و استقلال سب سے اہم ہتھیار ہوتے ہیں۔پس جب ہم نے کام کا آغاز کیا تو آہستہ آہستہ مجلس عاملہ کی مدد اور ان کے صبر و استقلال کے ساتھ ہم کام کو تیز تر کرنے کے قابل ہو گئے۔یہاں تک کہ بہت جلد مجلس خدام الاحمدیہ نے یہ محسوس کرنا شروع کر دیا کہ مجلس انصار اللہ نے انہیں اس میدان میں شکست دے دی ہے۔حالانکہ پہلے مجلس خدام الاحمدیہ اس کام میں مجلس انصار اللہ سے آگے تھی۔کیونکہ ان کی سالانہ رپورٹ کے مطابق وہ ہر سال کچھ نہ کچھ بیعتیں کروا لیتے تھے لیکن انصار اللہ کے ریکارڈ میں کوئی بیعت نہ تھی۔لیکن جب کوشش کر کے سب مجالس انصاراللہ سے مکمل رپورٹیں منگوا ئیں ، تب بھی یہی معلوم ہوا کہ کوئی شخص اس نہایت اہم کام کی طرف متوجہ نہ تھا۔پس با وجود 75