تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 830 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 830

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 13 نومبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم وہ دلیل کو عمدگی سے پیش کر سکے اور دوسرے محض دلیل کے ذریعے معاشرے تبدیل نہیں ہوا کرتے۔لوگ سمجھتے بھی ہیں کہ ایک چیز بری ہے مگر اسے چھوڑنے کی طاقت نہیں رکھتے۔لوگ جانتے ہیں کہ اچھی نصیحت کی جارہی ہے لیکن اس نصیحت کے اندر ایسی کشش نہیں پاتے کہ اپنی برائی کی کشش پر اس کو غالب آتا ہوا دیکھیں۔سمجھتے ہیں، عقلاً جانتے ہیں کہ ہاں یہ چیز بری ہے، نصیحت اچھی ہے۔مگر برائی کے اندر ایک کشش ہے اور کشش ثقل کی طرح، ایک قانون کی طرح وہ کام کرتی ہے۔اس لئے ناممکن ہے کہ نصیحتوں کے ذریعے ، جن کے اندر کوئی اور وزن نہ ہو، آپ لوگوں کو برائیوں سے الگ کر سکیں“۔33۔۔اس لئے اس کے مقابل پر کوئی طاقت ہونی چاہئے۔اور قرآن کریم فرمارہا ہے کہ تمہارے تعلق باللہ کے نتیجے میں تمہاری ذات میں ایک کشش پیدا ہوگی۔وہ کشش لوگوں کو کھینچے گی، وہ کشش ان کی برائی سے محبت کے مقابل پر زیادہ قوی ہو جائے گی۔کیونکہ کشش ثقل زمین کی طرف بلاتی ہے اور خدا کی محبت آسمان کی طرف بلاتی ہے۔اور خدا کی محبت زمین کی محبت پر غالب آجاتی ہے، اگر وہ بچی ہو۔اس لئے لازم وہ لوگ خدا کی طرف کھینچے جائیں گے ، اگر ان کو بلانے والے خدا کی طرف تھے ، اگر ان کو بلانے والے خدا کی محبت اپنے دل میں رکھتے ہوں۔پس اس پہلو سے قرآن کریم فرماتا ہے : ہاں ! اب تم تیار ہو گئے ہو کہ بنی نوع انسان کو نیکی کی طرف بلاؤ اور برائیوں سے روکو کیونکہ تمہارا حبل اللہ سے تعلق قائم ہو چکا ہے۔کیونکہ تم اللہ کی محبت کے نتیجے میں اس کے بندوں اور اس کے غلاموں سے محبت کرنے کے اہل ہو گئے ہو“۔" لیکن پھر اگلی نسلیں آتی ہیں ، ان کو یہ باتیں ورثہ میں ملتی ہیں، ان کے لئے یہ تاریخ ہو جاتی ہے۔ان کو مخاطب کر کے فرمایا:۔وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَ هُمُ الْبَيِّنَتُ که خبردار! یہ نہ سمجھنا کہ یہ بندھن ہمیشہ مضبوط رہیں گے۔خطرہ ہے کہ آئندہ نسلوں میں یہ بندھن کمزور ہو جائیں اور ان تعلقات کو تم رسمی تعلقات سمجھ لو۔تم یہ مجھ لو کہ ماں باپ کے تعلق تھے، جو ہمیں ورثے میں ملے ہیں، ہم تمہیں متنبہ کرتے ہیں کہ اس طرح یہ تعلق قائم رہنے کے نہیں، یہ پھر ٹوٹ جائیں گئے۔۔۔۔۔پس اس پہلو سے جماعت احمدیہ کی موجودہ نسل کے لئے ایک بہت ہی بڑی تنبیہ ہے۔ورثہ میں وہ سب رہتے تم پاؤ گے۔اگر ورثہ میں خدا کی محبت بھی تمہیں ملی ہو اور اگر خدا کی محبت تمہیں ورثہ میں نہیں ملی اور حبل اللہ سے تعلق کمزور ہو گیا ہے تو بزرگوں کے ورثہ میں سے کچھ بھی تمہارے حصے میں نہیں آئے گا۔بلکہ ان کا ورثہ پاؤ گے، جو تمہارے بڑوں اور تمہارے بزرگوں کے دشمن تھے۔جنہوں نے اپنی 830