تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 824
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 06 نومبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ہفتم لطف آئے گا۔آپ کو ایک موقع پر یہ محسوس ہوگا کہ آپ کی پہلی زندگی بیکار اور بے معنی تھی۔اب جو زندگی آپ نے بنائی ہے، وہ بہت زیادہ پر لطف ہے اور بہت زیادہ معنی خیز ہے، بامقصد ہے۔اس پہلو سے وہ لوگ، جو دعوت الی اللہ کی طرف توجہ نہیں دیتے ، وہ بیچارے قابل رحم ہیں۔بالکل اسی طرح قابل رحم ہیں ، جس طرح ایک کلر والا کھیت یا کسی اور بیماری کے نتیجے میں ایسا کھیت، جو بیج کو اگانے کی بجائے اپنے اندر سمیٹ لیا کرتا ہے۔نصیحت سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اسے ضائع کر دیتا ہے۔ان کھیتوں کی طرف جب نظر پڑتی ہے تو آپ دیکھیں آپ کو ان کے اوپر یا غصہ آئے گا یار تم آئے گا۔لیکن جو کھیت زرخیز ہوں، ان کی تو کیفیت ہی اور ہوتی ہے۔ان کو دیکھ کر نظر تازہ ہو جاتی ہے۔پہاڑوں کی طرف دیکھیں، جن کو خدا تعالیٰ نے رونق بخشی ہے، سرسبزی اور ہریاول کی ، ان کی طرف دیکھنے سے اور لطف آتا ہے۔جو بنجر اور ویران ہیں، ان کی طرف دیکھ کر اور قسم کے خیالات اور جذبات پیدا ہوتے ہیں۔تو اس لحاظ سے جماعت کا وہ حصہ، جوا بھی زرخیز نہیں ہوا، میری نظر میں اس کی حالت قابل رحم ہے۔ان کو خود نہیں پتا کہ ان کی زندگی کیسی بے معنی ہے۔جب وہ زرخیز ہو جائیں گے، جب وہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ نشو و نما کے آثار ظاہر کریں گے تو وہ خود محسوس کریں گے کہ ان کے اندر ایک عظیم الشان انقلاب پیدا ہو چکا ہے، ان کی زندگی پہلے سے بہت زیادہ پر لطف ہو جائے گی۔اس لئے اپنے اوپر رحم کریں اور ان نصیحتوں کی طرف توجہ دیا کریں۔اور ساری جماعت کو بالعموم چاہئے کہ اس معاملے میں ایک دوسرے کو نصیحت کرتی رہے اور یاد کراتی رہے۔اگر اس طرح کا رد عمل آپ نصیحتوں پر دکھا ئیں گے تو انشاء اللہ روز بروز آپ کی حالت تبدیل ہونی شروع ہو جائے گی۔پھر ہر سال آپ کے اندر حیرت انگیز تبدیلیاں پیدا ہوں گی۔توانائی کا احساس ایک بہت ہی پر لطف احساس ہے۔کمزوری کا احساس اگر وہ دعاؤں میں نہ بدلے تو نہایت ہی تکلیف دہ احساس ہے۔اس لئے اپنے کمزوری کے احساس کو دعاؤں کے نتیجے میں اور نیک اعمال کے نتیجے میں توانائی کے احساس میں تبدیل کریں۔آپ کے اوپر دنیا میں ورنہ کوئی رحم نہیں کرے گا، آپ کو ہمیشہ تذلیل کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔آپ دنیا میں کوئی مقام نہیں پیدا کر سکتے ، جب تک آپ ان رستوں پر نہ چلیں ، جو توانائی حاصل کرنے کے رستے ہیں۔یہ دنیا اخلاق کی دنیا نہیں ہے، جس میں آپ زندہ ہیں۔یہ دنیا محض ”جس کی لاٹھی، اس کی بھینس کی دنیا ہے۔اس اصول کی دنیا ہے۔اور وہی قومیں پنپتی ہیں اور عزت پاتی ہیں، جو توانا ہو جایا کرتی ہیں یا تو انائی کے رستوں پر چل پڑتی ہیں۔جو قومیں کمزور رہتی ہیں، ان کو شاید بعض لوگ رحم کی نظر سے دیکھتے ہوں۔ورنہ اکثر تو ان کو کھا جانے کی سوچتے ہیں۔ان کو اور زیادہ ذلیل ورسوا کرنے کی سوچتے ہیں۔824