تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 74 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 74

خطاب فرمودہ 07 جولائی 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ہفتم ہے۔یہ وہ عجیب و غریب اور غلط تصور ہے، جو انصار اللہ کی تنظیم کے ساتھ منسلک چلا آ رہا ہے۔جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ آپ نے ابھی قرآن کریم کی جو آیات سنیں ہیں، ان میں بتایا گیا ہے کہ آپ سب میں چنیدہ افراد ہیں۔آپ وہ لوگ ہیں، جن کا ذکر قرآن کریم میں اس طرح کیا گیا ہے کہ جب حضرت عیسی نے اپنے حواریوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ کون ہیں، جو خدا تعالیٰ کے دین کے لئے میرے مددگار ہوں گے؟ تو حواریوں نے فورا جواب دیا: " نحن انصار الله کہ ہم ہیں، جو خدا کے دین کے لئے مددگار ہوں گے۔اگر چہ ان آیات میں مخصوص طور پر ایسے لوگوں کا ذکر نہیں کیا گیا، جن کی عمر 40 سال سے زائد ہے۔لیکن حضرت مصلح موعودؓ نے اس غرض سے انصار اللہ کی اصطلاح قرآن کریم سے لی تا آپ کو ہمیشہ یاد دہانی ہوتی رہے کہ آپ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت اور حضرت مسیح موعود کے مشن کی تحمیل کے لئے ہمیشہ صف اول میں رہنے کا عہد کیا ہے۔پس آپ کو جماعت احمدیہ کی ذیلی تنظیموں میں سب سے فعال تنظیم ہونا چاہئے۔علاوہ ازیں میں اپنے انصار بھائیوں کو اس طرف بھی بار بار متوجہ کرتارہا ہوں کہ آپ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اللہ تعالیٰ جب بھی کسی نبی کو مبعوث فرماتا ہے تو سوائے شاذ کے وہ چالیس سال کی عمر والوں میں سے ہی ہوتا ہے۔اب اگر چالیس سال کے بعد کام کرنے والی زندگی ختم ہو چکتی ہے اور ریٹائر منٹ کی عمر شروع ہو جاتی ہے تو پھر الہی انتخاب درست معلوم نہیں ہوتا۔اور یہ بات ناممکن ہے۔اصل حقیقت یہی ہے کہ سب سے زیادہ ذمہ داری کا کام انہی لوگوں کو دیا جاتا ہے، جو 40 سال کی عمر کو پہنچ چکھتے ہیں۔اور انبیاء کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کے کام میں کمی واقع ہونے کی بجائے اضافہ ہوتا جاتا ہے۔اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی جدوجہد تیز سے تیز ہوتی جاتی ہے۔یہاں تک کہ موت کا وقت آجاتا ہے اور وہ اپنے رب کے حضور حاضر ہو جاتے ہیں۔وہ آخر دم تک کام کرتے رہتے ہیں اور ان کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ زندگی کے آخری لمحہ تک کام کی توفیق پاتے رہیں۔مندرجہ بالا امور کے پیش نظر اور بعض اور اسباب کے پیش نظر ، جن کو یہاں بیان کرنے کا وقت نہیں، میں یہ امر خاص طور پر آپ کے ذہن نشین کروانا چاہتا ہوں کہ آپ عمر کے ایسے حصہ سے تعلق رکھتے ہیں، جس میں انسان کو سب سے زیادہ نتیجہ خیز اور سب سے زیادہ ذمہ دار ہونا چاہئے۔اور آپ کو بار بار یاد دہانیوں کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔آپ اس عمر سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں مذکرین یعنی نصیحت کرنے والے مقرر کیے جاتے ہیں اور وہ خود نصیحت کے محتاج نہیں ہوتے۔پس آپ ساری احمدیت کے 74