تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 817 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 817

تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقتباس از خطبه جمعه فرموده 06 نومبر 1987ء امر واقعہ یہ ہے کہ بہت سے احمدی جو علمی لحاظ سے بہت کمزور ہیں ، صرف بچے اخلاص سے کوشش کرتے ہیں اور ہمہ تن مصروف رہتے ہیں تبلیغ کے کاموں میں اور سوچتے رہتے ہیں، دعائیں کرتے رہتے ہیں، ان کو ضرور پھل ملتا ہے اور بہت بہت بڑے اچھے اچھے پھل ملتے ہیں۔ان کے علم کے مقابل پر نہیں بلکہ ان کے اخلاص کے مقابل پر ان کو پھل ملتا ہے۔علم کی بنا پر نہیں بلکہ اخلاص کی بنا پر ان کو پھل ملتا ہے۔اس لئے کچھ نہ کچھ ایسی بات ضرور ہے یا عدم توجہ ہے یا کہیں کوئی اور کمزوری ہے یا دنیاداری کی دلچسپیاں ہیں، جنہوں نے اپنی طرف توجہ مائل کی ہوئی ہے۔لیکن اگر آپ میں سے ہر شخص اس آواز پر لبیک کہنا چاہے تو ہر شخص کے لئے رستہ کھلا ہے۔تبلیغ کے اتنے مواقع دنیا میں پیدا ہوتے رہتے ہیں کہ ایک شخص جو بیدار مغزی کے ساتھ رستے تلاش کرنا چاہے، اللہ تعالیٰ خود اس کو رستے مہیا فرما دیتا ہے۔رستہ چلتے کوئی سیر گاہ میں آپ جارہے ہوں، سیر کر رہے ہوں سیر تو ہوگی ہی ساتھ لیکن کئی رستے میں ایسے دوست ملتے ہیں، جن کے ساتھ علیک سلیک ہو جاتی ہے، ان کے ساتھ محبت کا سلوک کیا جائے ، اخلاص کا سلوک کیا جائے تو فوری طور پر متوجہ ہوتے ہیں۔اور چونکہ عام طور پر دوسرے سیر کرنے والے ایک دوسرے سے غیر معمولی حسن و احسان کا سلوک نہیں کرتے ، اس لئے وہ غیر معمولی طور پر ایسے اخلاق کے مظاہرہ سے متاثر ہوتے ہیں۔اور اس وقت جو تعلقات قائم ہوتے ہیں، اس کے نتیجے میں پھر تبلیغی روابط آگے بڑھ جاتے ہیں۔اسی طرح رستہ چلتے ، بازار میں جاتے ہوئے ، شاپنگ کرتے ہوئے دیگر اپنے کاموں کے دوران جن لوگوں کو شوق پیدا ہو جائے ، وہ کچھ نہ کچھ نئے لوگ تلاش کر ہی لیا کرتے ہیں۔اور کچھ مشکل نہیں ہے۔اور سارا سال چند دوستوں کو چن لینا، ان سے خاص طور پر پیار اور محبت کا سلوک کرنا، رفتہ رفتہ ان کو یہ بتانا کہ میں اگر مختلف ہوں تو کیوں مختلف ہوں، اپنی ذات میں ان کی دلچسپی پیدا کرنا اور پھر اس ذاتی دلچسپی کو جماعتی دلچسپی میں تبدیل کر دینا، یہ ایک عام بات ہے۔کوئی بہت مشکل کام نہیں ہے۔اگر آپ کرنا شروع کریں گے اور دعا کریں گے تو آپ کو بھی آ جائے گا۔لیکن عموماً میں نے دیکھا ہے کہ لوگ ایک بات کو سن کر اثر قبول کرتے ہیں اور پھر اگر کچھ عرصہ اس اثر سے فائدہ نہ اٹھا ئیں تو وہ اثر بھی مٹ جایا کرتا ہے۔پھر نیند آجاتی ہے، پھر اپنی پہلی حالت پر وہ راضی ہو جاتے ہیں۔تو جب بھی آپ اچھی بات سنتے ہیں، وہ وقت ہوتا ہے، اس پر عمل کرنے کا۔اسی وقت کچھ فیصلے کیا کریں، اسی وقت اپنے طرز عمل میں کچھ تبدیلیاں پیدا کیا کریں۔اگر آپ ایسا کریں گے تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ نیک نصیحتیں آپ کے اندر نئی روحانی روئیدگی پیدا کریں گی اور آپ کے اندر سے نئی نئی ترقی کی شاخیں پھوٹیں گی۔آپ کے وجود میں پاک تبدیلیاں پیدا ہوں گی۔جن کے نتیجے میں ماحول میں آپ پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کے اہل ہو جائیں گے۔817