تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 816 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 816

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 06 نومبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم پرورش کرتے ہیں، ان لوگوں کی تعداد میں اضافہ کرو۔اس نصیحت کے نتیجے میں، میں نے ان کے سامنے ایک کسوٹی رکھی۔اس کسوٹی کے اوپر اپنی کوششوں کو پرکھا کرو۔وہ یہ تھی کہ آپ ہر سال دگنا ہونے کی کوشش کرو۔اگر تمہاری کوششیں پچھلے سال سے دگنا پھل دیتی ہیں اور آئندہ سال پھر وہ دگنا ہو جاتا ہے اور آئندہ سال پھر وہ دگنا ہو جاتا ہے تو اس سے میں یہ نتیجہ نکالوں گا ہ اللہ تعالی کے فضل سے تم نصیحتوں پر پوری طرح عمل کرنے والے ہو۔اور خدا تعالیٰ کا فضل اس بات کو ثابت کر رہا ہے کہ تمہاری کوئی محنت ضائع نہیں جا رہی۔چنانچہ کئی ممالک ہیں، جو مسلسل گزشتہ چار سال سے اسی طرح دگنا اور پھر دگنا اور پھر دگنا نتیجہ دکھاتے چلے جارہے ہیں۔ہو سکتا ہے ایک موقع پر جا کر یہ رفتار اس طرح تیزی کے ساتھ قائم نہ رہ سکے۔کیونکہ انسانی استعدادوں کی اپنی حد بندی ہوا کرتی ہے۔اور یہ لازمی نہیں ہوا کرتا کہ اس طرح ہر جماعت ہر سال اپنے نیک نتائج کو دگنا کر سکے۔لیکن اب تک بہر حال خدا کے فضل سے یہ نتیجہ ظاہر ہورہا ہے۔پھر بعض یورپین ممالک ہیں، جن میں تبلیغ کی طرف عملا کوئی بھی توجہ نہیں تھی۔لیکن گزشتہ چند سالوں میں حیرت انگیز تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ناروے ان میں سے ایک ہے۔بہت چھوٹی سی جماعت ہے۔ایک زمانے میں چند گنتی کے احمدی تھے لیکن اب خدا کے فضل سے ہر سال ، ہر جہت میں وہ جماعت پھیلتی چلی جارہی ہے۔اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ بعض عرب ممالک کے بعد، سب سے زیادہ عربوں میں تبلیغ میں وہ جماعت کامیاب ہے۔اور ایک سے زائد آدمی ہیں، جو وہاں کام کر رہے ہیں۔لیکن جب کینیڈا کو دیکھا جائے تو یہ زمین سخت نظر آتی ہے۔یہاں سے جواب نہیں مانتا۔آواز تو یہاں پہنچتی ہے لیکن جس طرح بیج کھیت میں ہر طرف پھیلایا جاتا ہے، زمیندار کسی زمین کے ٹکڑے سے کنجوسی تو نہیں کیا کرتا ہر طرف بار بار پھیلاتا ہے۔یہاں بھی اسی طرح وہ بیج ڈالا جارہا ہے۔نیک نصیحتوں کا بیج۔لیکن اگتے بہت تھوڑے ہیں۔اتنی تھوڑی تعداد ہے، Respond کرنے والوں کی ، لبیک کہنے والوں کی ، ہاں میں سے جواب دینے والوں کی کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے کہ کیا واقعہ ہے؟ جب جماعت کا دورہ کرتا ہوں، دوستوں۔ملتا ہوں تو ان میں مجھے اخلاص بھی دکھائی دیتا ہے، سچائی بھی نظر آتی ہے، دین سے محبت بھی دکھائی دیتی ہے، نیک تمنائیں بھی نظر آرہی ہیں۔لیکن جب دعوت الی اللہ کی طرف بلاتا ہوں تو عجیب بات ہے کہ خاموشی دکھائی دیتی ہے۔اس لئے اپنی کچھ فکر کریں، سوچیں کہ کیا وجہ ہے؟ کیوں آپ لوگ ان لوگوں میں شامل ہونے کی تمنا نہیں رکھتے ، جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے؟ بہت ہی خوش نصیب لوگ ہیں وہ جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے، خدا کے کلام میں ذکر ہے۔سوچیں تو سہی کہ کتنا عظیم مقام ہے اور اس مقام کو حاصل کرنے کے۔آپ سے جو توقع کی جارہی ہے، وہ ناممکن نہیں ہے۔اتنا بڑا کام نہیں ہے، جو ہو نہ سکے۔816