تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 70 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 70

خلاصه ارشادات فرموده یکم جولائی 1985 سکھر تحریک جدید - ایک البمی تحریک۔۔۔جلد هفتم " اسلامی اور مغربی تہذیب کے تہواروں میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ مغربی تہذیب کے تہواروں کے موقع پر عام طور پر جرائم کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔لیکن اس کے برعکس اسلامی تہواروں مثلاً عیدین کے مواقع پر جرائم کی تعداد عام دنوں کی نسبت کم ہو جاتی ہے۔باوجود اس کے کہ آج کے مسلمان اسلامی اقدار سے بہت دور جاچکے ہیں۔اسلام میں ہماری انفرادی زندگیوں میں بھی ان عیدین کے تہواروں کے علاوہ چند ایک روز ہی ایسے ہیں، جو کہ منائے جاتے ہیں۔مثال کے طور پر سالگرہ کی رسم مغربی تہذیب کا ایک خاصہ بن چکا ہے اور اب اکثر مسلمان ممالک بھی اس سے متاثر ہیں اور اسے رسم کے طور پر مناتے ہیں۔لیکن جماعت احمد یہ جو کہ تجدید دین کے لئے وجود میں آئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے والی جماعت ہے، ایسی تمام رسوم کے ناصرف خلاف ہے بلکہ قلع قمع کرتی ہے، جو کہ بعد میں اسلام میں داخل ہوئیں۔اور جب بھی آپ اس قسم کی غیر اسلامی رسومات میں ملوث ہوتے ہیں تو یہ بلاوجہ غیر ضروری مالی بوجھ اور پریشانیوں کا موجب بن جاتی ہیں۔اسی لئے ہم سادگی کو زیادہ پسند کرتے ہیں“۔فرمایا:۔" آج کا روز بھی ، جسے ہم بہت اہمیت دیتے ہیں ، اس وجہ سے کہ ہمارے بچے نے قرآن کریم جو کہ خدا تعالیٰ کی الہامی کتاب ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ، خدا کے فضل سے مکمل کر لی۔اور اس موقع پر کوئی تصنع کوئی بناوٹ اور بے معنی خوشی نہیں ہے بلکہ بچے سے قرآن کریم کا ایک حصہ بن لیا، اجتماعی دعا کر لی اور چائے کے ساتھ کچھ مٹھائی وغیرہ کھالی۔اس تقریب کا نہایت اہم اور ضروری حصہ دعا ہے ، نہ کہ تحفے تحائف دینا اور لینا۔اور یہی ہم اپنے بچے کو بھی سکھانا چاہتے ہیں۔آج بھی یہاں جو مہمان آئے ہیں، وہ بھی بغیر تحائف کے آتے ہیں۔یہ رسم ہم میں داخل ہونا شروع ہوگئی تھی، اس لئے گزشتہ اس قسم کے ایک موقع پر میں نے جماعت کو تحائف دینے پر اس وجہ سے پابندی لگادی تا کہ ہماری سوسائٹی پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑنے شروع ہو جائیں۔کیونکہ یہ دیکھا گیا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ چھوٹی چھوٹی رسوم جو بظاہر نقصان دہ نہیں لگتیں اور لوگ کہتے ہیں کہ بچے کو ایک چھوٹا سا تحفہ دینے میں کون سی قباحت ہے لیکن آہستہ آہستہ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہمیں اندھیروں کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔اور یہی چیز پھر تصنع میں تبدیل ہو جاتی ہے۔اور خواہ کوئی اسے برداشت کر سکے یا نہ، وہ اسے ضروری سمجھنے لگ جاتے ہیں۔چنانچہ میں نے اس رواج کو مزید فروغ دینے پر پابندی عائد کر دی اور مجھے یہ جان کر نہایت خوشی رواج کو دینے پر کردی اورمجھے یہ کر خوشی 70