تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 71 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 71

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد ہفتم خلاصہ ارشادات فرمودہ یکم جولائی 1985ء ہوئی کہ اس چھوٹی سی معصوم بچی نے ، جسے گزشتہ موقع پر تھے دیئے گئے ، ہنستے مسکراتے ہوئے واپس لوٹا دیئے۔لہذا بجائے اس کے کہ ہم بچوں کو تحائف وغیرہ جیسی رسوم میں ملوث کر دیتے ، ان کی توجہ دعاؤں کی طرف مبذول کروادی۔تا کہ وہ تحائف کی نسبت دعا کو زیادہ اہمیت دیں اور اس کی اہمیت کو سمجھنے لگیں۔اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر وہ بے صبری سے تحفوں کی امید میں ہی لگے رہتے ہیں۔حضور نے مزید فرمایا:۔”ہم اپنے بچوں کی توجہ دعاؤں کی طرف اس لئے مبذول کرواتے ہیں تا کہ انہیں یہ اہمیت واضح ہو کہ اس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کے فضل نازل ہوں گے۔اور شاید ہی کوئی ایسا احمدی گھرانہ ہو، جس کے بچے نے اپنی دعاؤں کے پھل نہ پائے ہوں۔اور اگر بالفرض ہم بعض اوقات ناامید بھی ہو جائیں تو ہمارے بچے ہمیں یقین دلا دیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہماری دعاؤں کے نتیجہ میں ضرور فضل فرمائے گا۔لہذا بجائے اس کے کہ والدین اپنے بچوں کو کہیں کہ فکر کی بات نہیں ہے، بچے اپنے والدین کی فکرمندی دور کر دیتے ہیں اور یہی چیز ایک حقیقت حال بن کر سامنے آجاتی ہے اور دعاؤں کے معجزات کی وجہ سے ان کے اندر ایک نئی قوت پیدا ہو جاتی ہے۔اس موقع پر حضور نے بچوں کی دعا کی قبولیت کے بعض ایمان افروز واقعات سنائے، ان واقعات کے بعد حضور نے بتایا کہ وو ی ورثہ صرف مسلمانوں کا ہی نہیں بلکہ تمام انسانوں کے لئے ایک پیغام ہے۔اور یہی بات میں آپ سب کے ذہنوں میں راسخ کرنا چاہتا ہوں کہ اپنے بچوں کے دل میں خدا اور اس کی حقیقی محبت ڈالیں۔اور پھر دیکھیں کہ ہر گھر میں کس طرح معجزات ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔بچے کا تو کوئی مذہب نہیں ہوتا۔وہ تو بالکل معصوم ہوتا ہے۔بچہ خواہ مسلمان گھر میں پیدا ہو یا عیسائی کے گھر میں یا کسی اور کے، خدا تعالیٰ کا وجود ان سب کے لئے ایک جیسا ہوتا ہے۔یہی ایک طریق ہے کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو تیار کر سکتے ہیں۔لیکن کس قدر افسوس ہے کہ ہم اپنی آئندہ نسل کو اپنے ہاتھوں اب تباہ و برباد کر رہے ہیں۔مذہب سے لگاؤ کم ہوتا چلا جارہا ہے اور ایک نسل کے بعد دوسری نسل بگڑتی اور ضائع ہوتی چلی جارہی ہے۔اب یہی ایک فارمولا رہ گیا ہے، جو میں آپ سب کے لئے تجویز کرتا ہوں۔اسی ذریعے سے آپ اپنے بچوں کو خالق حقیقی کی طرف واپس لا سکتے ہیں۔اور پھر اسی پر توکل کریں اور اسی پر چھوڑ دیں کہ وہ انہیں صراط مستقیم پر چلائے۔میرے نزدیک یہی ایک طریق ہے، ( دعا کا ) جس کے بہت بڑے نتائج برآمد ہو 71