تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 779 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 779

تحریک جدید - ایک الی تحریک۔۔۔جلد هفتم -۔اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 16 اکتوبر 1987ء کریں گے تو یہ تکبر احساس کمتری سے پیدا ہوتا ہے کہ اچھا اب ہم ان کو بھی ذلیل دیکھنا شروع کریں گے اور ذلیل کرنا شروع کریں گے۔فرمایا: اللہ ان کو بڑی نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔تو بجائے اس کے کہ اس حالت کے نتیجے میں آپ خدا کی محبت کے سودے کریں، کیوں خدا کی نفرت اور خدا کے غضب کے سودے کرتے ہیں۔آپ خدا کے ہو گئے تو خدا کی قسم آپ عظیم ہو چکے ہیں۔کیونکہ خدا سے جو بھی تعلق جوڑ لے، وہ عظیم ہو جایا کرتا ہے۔پھر اس جھوٹے احساس کمتری کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟ کیوں شیطان کو موقع دیتے ہیں کہ آپ کے دل میں یہ خیال پیدا کرے کہ گویا وہ لوگ زیادہ ہیں اور آپ کم ہیں؟ اگر یہ آپ جذبہ پیدا کرلیں اور حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا یہ رنگ اپنے اندر داخل کر لیں تو میں آپ کو بتاتا ہوں کہ احمد یہ سوسائٹی میں تفریق پیدا کرنے والا کوئی وجود کامیاب نہیں ہو سکتا۔آج آپ کے اندر منافق بھی ہیں، آج آپ کے اندر بیوقوف بھی ہیں، احساس کمتری کا شکار جاہل لوگ بھی ہیں اور باہر کی قو میں آپ کے اندر ایجنٹ بھی داخل کر رہی ہیں کہ کسی طرح آپ کے اندر تفریق پیدا کر دیں۔اور شیطان اسی طرح کی تفریقیں پیدا کیا کرتا ہے۔یادرکھیں کہ مومن کہ اندر کوئی دنیا کی طاقت تفریق پیدا نہیں کر سکتی۔اس لئے ہر وہ شخص خواہ وہ احساس کمتری کے نتیجے میں یا شیطانیت کے نتیجے میں آپ کے اندر ایسی باتیں کرے، جس کے نتیجے میں آپ کا اپنے بھائی سے دل بدظن ہو رہا ہوں، جس کے نتیجے میں آپ سمجھیں کہ آپ کی محبت میں کوئی فرق پڑ رہا ہے، جس کے نتیجے میں آپ سمجھیں کہ جماعت کی نمائندہ تنظیم کے نمائندہ جو لوگ ہیں، ان کی عزت، ان کے احترام، ان کے اطاعت کے جذبے میں فرق آ رہا ہے تو جان لیں کہ وہ خدا کی طرف سے بولنے والا نہیں۔وہ شیطان کی طرف سے بولنے والا ہے۔ایسے انسان کو رد کریں۔اور اگر آپ۔میں سے ہر ایک یہ طریق اختیار کرلے تو احمدیت کے اندر کوئی شیطانی جذبہ سرایت نہیں کرسکتا۔میں تو حیران ہوتا ہوں دیکھ کر کہ بعض لوگ اس اثر کو قبول کر لیتے ہیں اور پھر مجھ سے شکایت کرتے ہیں کہ جی ! فلاں نے ہم سے یہ سلوک کیا، فلاں نے بچے کے امتحان میں اس لئے پاکستانی بچے کو پاس کر دیا کہ وہ پاکستانی تھا یا اس کا رنگ بہتر تھا یا دولت مند تھا اور ہمارے بچے کو جو زیادہ نمبر لینے کا مستحق تھا، اسے قرآن یا نظم میں پیچھے کر دیا۔میں حیرت سے ان کو دیکھتا ہوں کہ اگر ایسا کیا تو کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ خدا کے ہیں اور خدا خود آپ سے پیار کا سلوک کرے گا۔خدا کی خاطر جو بھی قوم قربانی کرتی ہے، جو شخص قربانی کرتا ہے، اس کا مرتبہ خدا کی نظر میں بڑھ جاتا ہے۔اس لئے اگر یہ سلوک ہوا تو آپ تب بھی مراد پا گئے۔اس بیوقوف پر رحم کریں، جس کا حق نہیں تھا۔اگر واقعی اس کا حق نہیں تھا، وہ انعام پا گیا۔وہ تو جاہل ہے، وہ تو جانتا نہیں کہ اس کو کیا دیا جارہا ہے۔779