تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 768
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 16 اکتوبر 1987۔تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم یہ وہ بات ہے، جو حضرت نوح ان کو سمجھانے کی کوشش کرتے رہے کہ ہم تو مال کی طرف ادنی اسی لالچ کی نگاہ بھی نہیں کرتے۔تمہارے اموال سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ہم تو خود قربانیاں دے رہے ہیں اور پھر تمہیں نصیحت کر رہے ہیں۔تم کیوں اس بات کو نہیں سمجھتے ؟ کیوں نہیں سمجھتے کہ مال میں فضیلت نہیں ہے بلکہ انسان کی شرافت میں فضیلت ہے، خدا سے تعلق میں فضیلت ہے۔اور اب تم یہ کہتے ہو کہ مال والوں کی عزت کریں اور وہ لوگ جو خدا کی خاطر سب کچھ قربان کر کے میرے سامنے خدا کے دین کی نصرت کے لئے حاضر ہوئے ، ان کو میں دھتکار دوں۔اس لئے کہ وہ غریب ہیں، اس لئے کہ وہ بے حیثیت ہیں ، اس لئے کہ ان کے رنگ کالے ہیں۔یا پھر اور حیثیت ایسی ہے کہ چونکہ اس زمانے میں بھی بہت بڑی بڑی قوموں کو جو سیاہ فام بھی تھیں اور دوسرے رنگوں سے بھی تعلق رکھتی تھیں ، غلام بنا کر امیر تو میں خدمت پر لگایا کرتی تھیں، یہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔تو فرمایا جن کو تم ویسے ہی حقارت سے دیکھتے ہو، نہ ان کے پاس مال، نہ ان کے پاس عزتیں ، نہ ان کے پاس قومی فضیلت ایسی پائی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں تم ان کی عزت کر سکو اور مجھے کہتے ہو کہ میں بھی ان کو ذلیل دیکھوں ، تب تم میری بات سنو گے“۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ آج کل خود اسی ملک میں امریکہ کے حالات پر یا امریکہ کے حالات کو سامنے رکھ کر یہ مضمون بیان فرمایا گیا ہے۔یہاں بھی ایسی قوم بستی ہے، جس کو دنیا حقارت کی نظر سے دیکھتی ہے۔خود ان کے اہل وطن ، جو نسبتا سفید فام ہیں، ان کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں کہ اگر چہ قانون ان کو بعض حقوق دلواتا ہے، آزادیاں دیتا ہے، ان کو برابر کے مواقع میں شریک قرار دیتا ہے لیکن عملاً یہ خستہ حال ہیں اور گلیوں اور کارخانے کے کمترین کام کرنے والوں میں آپ کو یہ دکھائی دیں گے۔جہاں تک اقتدار کا تعلق ہے، حقیقت میں اقتدار کی کنجیاں سفید فام لوگوں کے ہاتھ میں ہیں۔اور اس کے نتیجے " میں یہ بہت ہی بے چینی کا شکار ہیں۔جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، اسلام چونکہ ایک عالمی مذہب ہے، اس لئے رنگ اور نسل کی تمیز نہیں کرتا۔جیسے اس بات کی تعلیم نہیں دیتا کہ رنگ اور نسل کے لحاظ سے کسی دوسری قوم کی تحقیر کی جائے ، اسے ذلیل سمجھا جائے ، اسی طرح اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتا کہ رنگ اور نسل کی بناء پر کسی قوم سے انتقام لیا جائے اور اس سے انصاف کا سلوک نہ کیا جائے اور اپنی قوم کو انتقامی تعلیم دی جائے۔اسلام ایک توازن کا مذہب ہے۔اس لئے جب میں یہ تفریق کر کے آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں تو ہر گز مراد یہ نہیں کہ احمدیت ایک طرف ہے اور دوسری طرف نہیں ہے۔768