تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 763
تحریک جدید - ایک الہی تحریک خطبہ جمعہ فرمودہ 09 اکتوبر 1987ء وہی ایک ذات ہے، جو تمام دنیا کے لئے امن کی ضمانت دے سکتی ہے۔اس ذات کو تمام دنیا میں منتشر کرنا پڑے گا، اس کا عکس ہر دل میں اتارنا ہوگا۔یہ وہ رستہ ہے، جس کے سوا اور کوئی نجات کا رستہ نہیں۔اور اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور خصوصیت سے اس پاکیزہ رحمت للعالمین کے رجحان کو اپنے دلوں میں آپ سالیں اور اس کی حفاظت کریں اور اس کی پرورش کریں تو ناممکن ہے کہ خدا آپ کو ہلاک ہونے دے۔ناممکن ہے کہ یہ جذبہ کسی اور نفرت کے جذبے سے شکست کھا جائے۔ہر چیز ممکن ہے لیکن محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مقدر میں شکست ممکن نہیں۔اس لیئے اس طاقت کے سرچشمے کے ساتھ کھڑے ہو جا ئیں اور اس سے آپ پانی پئیں، جو سر چشمہ ہمیشہ کی فتح کے لئے ایک آب حیات کا مقام رکھتا ہے۔لیکن یہ کہنا آسان ہے، جب ہم اس کی تفصیل میں جاتے ہیں تو پھر دل مزید ڈولنے لگتا ہے اور کئی قسم کے خطرات سامنے آتے ہیں۔کتنا تسکین بخش ہے یہ مضمون لیکن مشکل بھی تو بہت ہے۔عام دنیا میں کسی کو آپ ہیرو بنا ئیں اپنا معمولی سی ذات ہو ، ویسا بنے کی کوشش کریں، ساری عمر آپ گزار دیں گے، پھر بھی بسا اوقات آپ میں اکثر ویسا نہیں بن سکیں گے۔بعض لوگ اپنا ہیرو بناتے ہیں اور اس کی آواز Imitate کرتے ہیں، اس کی طرز Imitate کرتے ہیں، اس کی نقالی کرتے ہیں کہ ہم ویسے ہو جائیں اور یہ ہیرو مختلف قسم کے ہیں۔بائرن ایک دفعہ ایک زمانے میں بڑا بد کردار نواب مشہور تھا، بہت اچھا شاعر تھا مگر وہ ہیرو بن گیا۔وہ لنگڑا کر چلا کرتا تھا، ہلکی سی لنگڑاہٹ تھی ، اس کی چال میں اور انگلستان کے بڑے بڑے لارڈ اور بڑے بڑے جو چوٹی کے فیشن میں آگے آگے لوگ تھے، انہوں نے بھی لنگڑا کر چلنا شروع کر دیا۔عجیب حال تھا۔تو دنیا تو اپنے ہیرو کی خاطر لنگڑا کے چلتی ہے، آپ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر کیوں ہمیشہ کا، ابدی حسن اختیار نہیں کرنے کی کوشش کرتے؟ اس ذات کو اپنا ہیرو بنا ئیں۔اس جیسا بننے کی کوشش کریں اور یقین رکھیں کہ اس کی ہر ادا پیاری ہے، ہر ادازندہ رکھنے کے لائق ہے۔اور خداہر ادا کولاز مازندہ رکھے گا۔کوئی دنیا کی طاقت نہیں ہے، جو محد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اداؤں کو مٹادے۔انہی اداؤں میں آپ کی زندگی ہے اور انہی اداؤں کے ساتھ آج تمام دنیا کی زندگی وابستہ ہو چکی ہے۔مشکل ہے لیکن محبت سے یہ مضمون آسان ہوتا ہے۔تلقین سے آسان نہیں ہوگا، نصائح سے آسان نہیں ہوگا، پیار اور محبت سے آسان ہو گا۔محبت ہو جائے تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے لنگڑوں کی بھی نقالی کی جاتی ہے۔محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا تو ایسا پیار اوجود ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔763