تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 761
تحریک جدید - ایک الہی تحریک خطبہ جمعہ فرمودہ 109 اکتوبر 1987ء کے لئے تیار نہیں ہوگی بلکہ تمنا کرے گی کہ کاش! میرا بچہ پکڑا جائے اور میں بچ جاؤں۔کوئی بچہ اپنے ماں باپ کے لئے قربانی کے لئے تیار نہیں ہوگا اور یہ تمنا کرے گا کہ کاش! میرا باپ پکڑا جائے یا میری ماں پکڑی جائے اور میں اس مصیبت سے بچ جاؤں۔کوئی بہن اپنے بھائی کے لئے قربانی کے لئے تیار نہیں ہو گی۔پس امتحان کا معیار بلند کر دیں بختی کا معیار بلند کر دیں تو اس وقت پتا چلتا ہے کہ کون کس کا ہے؟ ایک حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے، جو ہر خطرناک امتحان سے پوری گزرنے کے بعد بھی خدا کے نزدیک اس لائق ٹھہری کہ ہر بڑی سے بڑی تکلیف کے وقت وہ بنی نوع انسان کی ہمدردری میں اور دوسروں کی ہمدردری میں اپنے نفس کو قربان کرنے کے لئے تیار ہے۔یہی وہ گہرا فلسفہ ہے، جس کے نتیجے میں آپ کو شفیع بنایا گیا ہے۔لوگ بڑے آرام سے ہلکے سے منہ سے کہ دیتے ہیں ، شفیع ہیں دنیا کے، ہم گناہگاروں کے اور گویا بڑے آسانی سے شفاعت نصیب ہو گئی ہے۔خدا نے کہہ دیا تو شفیع بن گیا، وہ شفیع ہو گئے۔حالانکہ ان انعامات میں ان عظیم مقامات میں جو اللہ تعالٰی عطا فرماتا ہے، ان کے پیچھے بھی گہری حکمتیں ہوتی ہیں۔خدا کا کوئی فیصلہ بھی حکمت سے خالی نہیں۔تمام بنی نوع انسان کا شفیع اس کو بنایا، جس کے متعلق جانتا تھا اور جانتا ہے کہ وہ تمام بنی نوع انسان کا سب سے زیادہ ہمدرد ہے اور تکلیفوں میں پڑ کر اس کی سچائی کھل کر نکھر کر سامنے آچکی تھی۔تمام دنیا نے جو مظالم کا نشانہ بنانا تھا، حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کچھ نمونے آپ نے دیکھے تھے اور بہت سے ایسے تھے، جو آپ کو بتائے گئے تھے اور قرآن کریم نے اس کی پیشگوئیاں کیں اور ملائکتہ اللہ نے ان کی تفاصیل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ فرمایا کہ ایسی بد بخت قومیں ہیں، جنہوں نے تجھے اپنے مظالم کا نشانہ کے لئے چن لینا ہے۔اور صدیوں کے بعد صدیاں گزرتی چلی جائیں گی اور وہ تیرے اوپر گند اچھالتے چلے جائیں گے، وہ تیرا انکار کرتے چلے جائیں گے، تیری تکذیب کرتے چلے جائیں گے۔یہ خبریں خصوصیت کے ساتھ سورہ کہف میں حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئیں۔اور احادیث سے پتا چلتا ہے کہ ان کی بہت سی تفاصیل مختلف مواقع حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی گئیں۔جب یہ بتایا گیا کہ اس کے نتیجے میں بالآخر یہ قو میں ہلاک ہوں گی تو اس وقت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کی جو حالت ہوئی، اس کو قرآن کریم ان الفاظ میں ذکر فرماتا ہے:۔فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى أَثَارِهِمْ إِنْ لَمْ يُؤْمِنُوْا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا (الكهف : 07) 761