تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 748
اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 02 اکتوبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم دوسرے ایک یہ بھی وجہ ہے اور کچھ معاملات میں، میں جانتا ہوں کہ یہ بھی ہوگی کہ پہلے ایسے لوگ بھی تھے ، جو یہاں رہتے ہوئے بھی جماعت سے تعلق نہیں رکھ رہے تھے۔اس تعلق نہ رکھنے کی وجہ ایک تو اچھے مرکز کا فقدان تھا۔بعض ایسے دوست تھے، جن سے میں نے خود پوچھا کہ آپ جہاں تک میراعلم ہے، جب پاکستان میں یا ہندوستان میں تھے، آپ کا تعلق جماعت سے اچھا تھا۔اب میں آپ کو نیو یارک کے مرکز میں نہیں آتا دیکھتا، کیا وجہ ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ وہ علاقہ ایسا ہے، وہاں جانا خطر ناک ہے۔وہاں ہم اپنے بچوں کو نہیں لے جاسکتے۔اور ایسا ماحول ہے تاریک کہ آپ کو اندازہ نہیں۔آپ تو آج آئے ہیں بکل چلے جائیں گے۔یہاں تو Mugging بڑی ہوتی اور یہ ہوتا ہے اور وہ ہوتا ہے۔اس سے مجھے عام طور پر پاکستانی دوستوں کے مزاج کا علم ہوا۔اگر چہ کسی حد تک یہ بات درست تھی، کسی حد تک یہ عذر لائق پذیرائی ضرور تھا۔لیکن اس حد تک نہیں کہ انسان اپنے ہاتھوں سے اپنا دین کھو بیٹھے۔اس حد تک نہیں کہ اتنی عظیم قربانی دے کہ جماعت کے ساتھ تعلق توڑ بیٹھے اور دور ہو جائے اور نظام جماعت سے جو انسان کی زندگی وابستہ ہے، خود اس رگ کو قطع کر لے۔چنانچہ اس پہلے تجربے کے بعد میں نے یہ فیصلہ کیا کہ جہاں کہیں بھی ایسے مراکز ہوں، جہاں سے زیادہ خطرات لاحق ہوں، میں وہیں جا کے ٹھہروں گا اور پسند کروں گا کہ اپنے ان بھائیوں کے درمیان ٹھہروں، جن کو بدبختی سے اور بد قسمتی سے بعض لوگ اپنے سے گھٹیا سمجھتے اور نفرت کی نظر سے دیکھتے تھے، تا کہ میرے ملنے کے بہانے ہی کچھ ایسے دوست وہاں آجائیں، جو پہلے نہیں آسکتے تھے یا نہیں آیا کرتے تھے۔چنانچہ اس فیصلے کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سی ایسی جگہوں پہ مجھے جانے کا اتفاق ہوا، جن کو علاقوں کے لحاظ سے خطرناک علاقہ سمجھا جاتا تھا۔اور میرے ساتھ کوئی مرد بھی اور نہیں تھے۔میری بیوی تھی، دو بیٹیاں تھیں، دو جوان بیٹیاں اور اگر خطرہ لاحق ہوسکتا تھا تو اس حالت میں مجھے زیادہ خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔لیکن میں جانتا تھا کہ جب خدا کی خاطر انسان ایک عزم کر کے ایک نیک قدم اٹھاتا ہے تو لازماً اللہ تعالی کی طرف سے نصرت بھی میسر آتی ہے۔چنانچہ وہ بھی ایسے حیرت انگیز طریق پر آئی کہ عقل ششدر رہ جاتی ہے، وہم و گمان میں بھی انسان کے نہیں آسکتا کہ عام حالات میں انسان کے ساتھ ویسا سلوک ہو سکتا ہے۔یہ میں اس لئے آپ کو بتارہا ہوں کہ اس وقت میں خلیفہ وقت تو نہیں تھا، اس وقت ایک جماعت کا ایک عام فرد تھا، جس کے سپر د جماعت کی کوئی بہت بڑی ذمہ داری نہیں تھی۔اور یہ سفر بھی ذاتی نوعیت کا سفر تھا۔اس کے باوجود جب میں نے ایک فیصلہ خدا تعالیٰ کی خاطر کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس رنگ میں حیرت انگیز نصرت 748