تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 745
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد هفتم اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 18 ستمبر 1987ء نہیں ہے، وہاں کی جماعت کو بیدار مغزر بھی ہونا چاہئے۔چنانچہ میں نے اس وقت ساری دنیا کی جماعتوں کو ہدایت دی تھی کہ اپنے اپنے قیمتی مسودات کی بھی حفاظت کا انتظام کریں اور اپنی مساجد کی حفاظت کا پہلے سے بہتر انتظام کریں۔یہ بھی اسی اسکیم کا ایک حصہ ہے۔لیکن بہر حال جن مساجد کو نقصان پہنچا ہے، ان کی تعمیر نو میں بھی ہمیں جہاں تک کسی کو توفیق ہو حصہ لینا چاہئے۔چنانچہ ہالینڈ کی مسجد کے لئے میں نے اعلان کیا تھا کہ جن دوستوں کو تو فیق ہے، وہ اس سے پہلے سے بہت زیادہ شاندار بنانے کے لئے اگر خدا کی راہ میں کچھ خرچ کر سکتے ہیں تو کریں۔اسی طرح بنگلہ دیش کی مساجد میں جب بھی خدا توفیق دے گا ہمیں ان کو نہ صرف یہ کہ دوبارہ بحال کرنا ہے بلکہ پہلے سے بہت زیادہ بڑھانا ہے۔اور اگر کوئی معمولی چھپروں کی مسجد تھی، اسے پختہ بنا کے دینا ہے۔چند نمازی نماز پڑھ سکتے تھے تو کئی گنا زیادہ نمازیوں کے لئے گنجائش پیدا کرنی ہے۔کوئی ایک جگہ بھی دنیا میں ایسی نہیں، جہاں احمدی مسجد پہ حملہ ہوا ہو اور جوابا ہم نے اس سے زیادہ تر وسیع مسجد بنانے کی کوشش نہیں کر لی۔یہ تو لمبے فاصلے ہیں، لمبے سفر ہیں۔انشاء اللہ اسی طرح ہم یہ سفر آگے کرتے چلے جائیں گے۔جماعت کا جہاں تک تعلق ہے، اپنے طور پر اپنے علاقوں میں مسجدوں کے علاوہ بھی جن مسجدوں کو نقصان پہنچا ہے، ان کے لئے کچھ حصہ لیں۔اس ضمن میں ایک تاکید ہے کہ جن احباب نے صد سالہ جوبلی میں ابھی اپنے بقایا ادا کرنے ہیں یا بعض اور کسی بڑی تحریک میں اپنا چندہ ابھی ادا کرنے والا باقی ہے، وہ سوائے اس کے کہ تبرک کے طور پر بالکل معمولی حصہ لیں، پہلے اپنے بقایا ادا کر یں، پھر نئی تحریکات میں حصہ لیں۔صد سالہ جوبلی کے کام بھی بہت زیادہ ہیں اور بڑے Demanding ہیں۔یعنی ان کا وقت تھوڑا رہ گیا ہے، کام بہت زیادہ ہیں۔اخراجات بہت ہیں اٹھنے والے، اس لئے اس چندے کو تو بہر حال اہمیت دینی چاہئے۔جن کے بقایا ہیں، وہ پہلے بقایا ادا کرنے کی طرف توجہ کریں۔پھر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو پھر ان تحریکات میں بھی شامل ہو جائیں۔تو مسجد کے لئے میں اپنی طرف سے ان مساجد کی تعمیر کے لئے، جن پر دشمن حملہ کرتا ہے، ایک ہزار پونڈ کا اپنی طرف سے میں وعدہ پیش کر چکا ہوں۔اور بتانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ کئی دفعہ میرا تجربہ ہے کے جب میں اپنا چندہ بتا دوں تو جماعت بہت تیزی سے آگے بڑھتی ہے۔جب میں مخفی رکھوں تو اس بارے میں خاموش رہتی ہے۔شاید ان کو یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کے میں جہاں چندہ نہیں لکھواتا ، وہاں اہمیت نہیں دیتا، اس کو خاص۔حالانکہ ضروری نہیں ہوتا کہ انسان بتا کے چندہ دے۔تو بعض چندے ایسے ہیں، جن 745