تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 746
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 18 ستمبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم میں چونکہ جماعت کو بتایا نہیں گیا، میں نے فہرستوں کا جب جائزہ لیا تو ان میں کوئی توجہ نہیں تھی ، جماعت کی۔جہاں بتایا گیا ہے، وہاں غیر معمولی طور پر قربانی میں جماعت آگے بڑھی ہے۔تو یہ ممکن ہے، ایک طبعی فطری بات ہو۔اس لئے میں آپ کو بتارہا ہوں کہ اسی نسبت سے آپ بھی اپنی توفیق کے مطابق جس حد تک حصہ لے سکتے ہیں، لیں لیکن وہی، جو پہلے صد سالہ جو بلی کے چندہ ادا کر چکے ہوں۔دوسرا بیوت الحمد کا معاملہ ہے۔بیوت احمد میں ہماری کوشش ہے کہ ایک سو مکان غرباء کو یا ایسے دین کی خدمت کرنے والوں کو، جن کو توفیق نہیں ہے اپنے مکان بنانے کی ، ان کو بنا کر مکمل پیش کریں۔یہ تحریک چار سال پہلے پیش کی گئی تھی۔اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت نے بڑا ہی اچھا رد عمل دکھایا اور کثرت سے اتنے وعدے موصول ہوئے کہ ہمارا خیال تھا کہ اوسطاً اگر سارے اخراجات ملا کر ایک لاکھ میں ایک مکان پڑے تو ایک کروڑ روپیہ چاہیے ہوگا۔اور وعدے خدا کے فضل سے ایک کروڑ سے زیادہ کے آگئے۔لیکن ایک بات ہماری نظر سے رہ گئی تھی وہ یہ کہ اس سکیم کا ایک یہ بھی حصہ تھا کہ وہ غرباء، جن کو پورے مکان کی ضرورت نہ ہو، لیکن ان کا مکان نا کافی ہو یا چار دیواری نہ بنا سکے ہوں یا نسل خانہ وغیرہ نہ بنا سکے ہوں یا ایک ہی کمرہ ہے اور خاندان بڑا ہے، ان کی جزوی مدد بھی کی جائے گی۔اور جزوی مدد میں کسی کو کمرہ بنا دیا جائے گا، کسی کو چار دیواری بنادی جائے گی۔تو یہ مجھے اندازہ نہیں تھا اس حصے پر کتنا زیادہ خرچ ہوگا۔نتیجہ یہ نکلا کہ اکثر روپیہ اسی حصے پر خرچ ہو چکا ہے۔اور سو نہیں بلکہ کئی سو مکان ایسے ہیں غرباء کے، جن کو کسی کو چار دیواری بنادی گئی، کسی کو باورچی خانہ بنا کر دیا گیا، کسی کو زائد کمرہ بنا کے دیا گیا۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سکیم کا جو فیض ذہن میں تھا، اس سے زیادہ فیض پہنچ چکا ہے۔اس وقت جماعت کو تحریض دلانے کی خاطر دو، تین سال کے بعد میں نے اپنا چندہ دگنا کر دیا تھا۔یعنی ایک لاکھ کی بجائے دولاکھ کر دیا تھا۔تا کہ دو مکان اگر میں بنا کے دیتا ہوں تو جو صاحب توفیق ہیں، وہ بھی اس معاملے میں آگے قدم بڑھائیں۔اب جب جائزہ لیا ہے تو ابھی بھی اور ضرورت ہے۔اس لئے میں اپنی طرف سے ایک اور مکان کا خرچ پیش کرتا ہوں۔اور جن دوستوں کو توفیق ہے کہ وہ ایک مکان کا خرچ پیش کر سکیں یا جن جماعتوں کو توفیق ہے کہ وہ ایک مکان کا خرچ پیش کر سکیں، ان کو بھی اجازت ہے۔لیکن اس شرط کے ساتھ کہ صد سالہ جوبلی کے بقایا دار نہ ہوں اور بیوت الحمد کی تحریک کے بقایا دار نہ ہوں۔پہلے پرانے وعدے پورے کریں ، پھر خدا توفیق عطا فرمائے تو پھر بے شک آگے بڑھیں“۔(مطبوعہ خطبات طاہر جلد 6 صفحہ 598 تا 603) 746