تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 723
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم خطبہ جمعہ فرموده 21 اگست 1987ء ایک اور پہلو ہے اس کا، جس میں مجھے خطرہ تھا کہ آپ کو نقصان نہ پہنچے اور میری توجہ آپ کے روحانی نقصان کی طرف ہے۔مادی جسمانی نقصان تو معمولی حیثیت رکھتے ہیں۔اس کی طرف بھی میں آپ کو متوجہ کر دینا چاہتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ اخباروں کے جو بھی میں نے اقتباسات دیکھے ہیں، ان سے پتا چلتا ہے کہ شاید بعض احمدیوں کی طرف سے بھی یہ تاثر دیا گیا ہے کہ اس واقعہ کے پیچھے حکومت پاکستان کا ہاتھ ہے۔حالانکہ ہمیں ہرگز بغیر شواہد کے بات نہیں کرنی چاہئے۔ہم ہرگز یقینی طور پر یہ نہیں کہ سکتے کہ حکومت پاکستان کا ہاتھ ہے یا سعودی عریبیہ کے جو مختلف ادارے دنیا میں کام کر رہے ہیں، رابطہ عالم اسلامی و غیرہ، ان میں سے کسی کا ہاتھ ہے یا مقامی شرارت ہے۔جب ہم یہ پسند نہیں کرتے کہ بغیر شواہد کے ہم پر کوئی الزام لگائے ، جب ہم جھوٹ کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جب ہمارے اوپر بولا جاتا ہے تو ہمارا یہ کوئی حق نہیں کہ ہم چاہے ہمارا دشمن ہی ہو ، اس کے اوپر جھوٹ بولیں یا اس کی طرف بغیر شواہد کے، بغیر دلیل کے باتیں منسوب کریں۔اب تک ایسے کئی واقعات گزر چکے ہیں اور ہر ایسے واقعہ کے بعد جب میں نے خطبہ دیا تو اس میں اس طرف متوجہ کیا کہ جب تک ہمیں یقینی طور پر معلوم نہ ہو کہ کون سا گروہ یقینی طور پر سے مراد یہ ہے کہ ایسے مضبوط شواہد معلوم نہ ہوں کہ کون سا گروہ ملوث ہے، اس وقت تک ہمارا یہ اخلاقی حق نہیں بنتا کہ ہم کسی کو ملزم کریں۔ہم دنیا کی طرح تو نہیں ہیں کہ ایک قتل ہو گیا تو اندازہ لگا کر چھپیں تھیں یا بعض دفعہ پورے کے پورے خاندان کا نام شبہ میں لکھوادیا گیا۔اس لئے ہمیں ایسے مواقع پر اپنے اخلاق کی حفاظت کرنی چاہئے ، اپنے اعلیٰ اصولوں کی حفاظت کرنی چاہیئے۔مسجد کا نقصان ہو یا کوئی اور عمارت کا نقصان ہو، یہ اصولوں کے نقصان اور اخلاق کے نقصان کے مقابل پر کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتا۔مسجدیں تو بنتی ہیں صاحب اخلاق لوگوں کے ذریعے، صاحب ایمان لوگوں کے ذریعے۔ورنہ دنیا کی بڑی بڑی قومیں عظیم الشان کروڑوں، اربوں روپے کی مسجد میں بنا سکتی ہیں۔ان کی کیا حیثیت ہوگی، خدا کی نظر میں ؟ جب تک نمازی متقی نہ ہوں، جب تک مسجدوں میں جانے والوں کے اخلاق بلند نہ ہوں، ان کے نام کے ساتھ اسلام کا حسن جب تک وابستہ نہ ہو، اس وقت تک ان مسجدوں کی کوئی بھی قیمت نہیں۔اسی لئے خدا تعالیٰ فرماتا :- خُذُوا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف : 32) جب مسجدوں میں جایا کرو تو اپنی زینت یعنی تقوی کو ساتھ لے جایا کرو۔کیونکہ وہاں تمہارے تقویٰ ہی سے مسجدوں کی رونق بنتی ہے۔پس ظاہری مساجد کی تو کوئی حیثیت نہیں ہے، مسجد میں جانے والوں کی حیثیت ہے۔ان سے مسجدوں کو زینت ملتی ہے وہ اپنی زینتیں لے کے ساتھ جایا کرتے ہیں۔723