تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 717 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 717

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد هفتم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 اگست 1987ء نے لکھا ہے کہ گوبر کے ٹکڑے نظر آتے تھے، جن پر ہاتھ ڈال محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور چمکتی ہوئی سونے کی ڈلیوں میں تبدیل فرما دیا۔(القصائد الاحمد به صفحه : 03) پس آپ بھی تو اسی کے غلام ہیں، اسی کی محبت کا دعویٰ کرنے والے ہیں، اسی عظیم وجود کے کام کو آگے بڑھانے کا عہد لے کر اٹھے ہیں۔اس لئے جماعت احمدیہ کے افراد کو اگر کوئی امیر یہ کہہ کر رد کرتا ہے کہ یہاں قحط الرجال ہے تو وہ جھوٹ بولتا ہے۔اس کے ہاں عقل کا یا ایمان کا قحط ہو سکتا ہے لیکن قحط الرجال نہیں، اگر قحط الرجال ہوتا نعوذ باللہ من ذالک تو اس وقت پاکستان کے اکثر احمدی مرتد ہو چکے ہوتے۔میں یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ پوری طرح بے عملی کا شکار ہیں لیکن نسبتیں ہوا کرتی ہیں، یہ دو گروہ خدا تعالیٰ نے نمایاں طور پر دکھائے ہیں۔یہ مطلب نہیں کہ ان کے درمیان کوئی اور ٹکڑا ہی نہیں آتا ، درجہ بدرجہ فرق پڑا کرتے ہیں۔پس اس وقت میرا جائزہ یہ ہے کہ جماعت، ساری دنیا کی جماعتوں میں، اکثر جماعتوں میں اکثر احمدی ایسے ہیں، جو ابھی صف اول کے مجاہد نہیں ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ غیر معمولی کام کی گنجائش موجود ہے۔اگر آپ ان سب کی تمام صلاحیتوں کو صف اول کی صلاحیتوں میں تبدیل کر دیں تو اتنی بڑی طاقت جماعت احمد یہ بن چکی ہے کہ ساری دنیا کی طاقتیں مل کے بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔یہ طاقتیں خدا نے دیکھیں ہیں تو ہم پر بوجھ ڈالے ہیں۔یہ طاقتیں خدا کی تقدیر کو دکھائی گئی ہیں، تبھی اتنے بڑے بڑے ابتلاؤں میں سے جماعت کو خدا تعالیٰ نے گزارنا شروع کیا ہے۔پس ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے امرائے جماعت پر اور پریذیڈنٹ صاحبان پر یادیگر عہدیدارخواہ وہ قائد کہلائیں باز میم کہلا ئیں، جو نام بھی ان کا رکھیں۔طریقہ کار یہ ہونا چاہئے کہ کچھ پیچھے ہٹنے والے یا کمزور رہنے والے آدمیوں پر تھوڑی تھوڑی ذمہ داریاں ڈالنی شروع کریں، ان کو اپنے ساتھ ملائیں، ان سے محبت اور پیار کا سلوک کریں ، ان پر اعتماد کریں۔ان سے کہیں : یہ یہ کام جماعت کے ہونے والے ہیں، چند ہی آدمی ہیں، جن پر بار بار بوجھ ڈالے جاتے ہیں۔خطرہ ہے، وہ تھک نہ جائیں، ان کی طاقت سے بوجھ بڑھ نہ جائے۔اس لئے آپ تھوڑ اسا ان کو سہارا دیں۔چنانچہ بعض اچھے آدمیوں کے ساتھ بعض کمزور آدمی شامل کئے جائیں۔نوجوانوں کو بھی پکڑا جائے اور کچھ نہ کچھ کام دیا جائے۔کام اگر دیا جائے اور کوئی کام کر لے تو کسی شخص کا یہ احساس کے میں نے ایک اچھا کام کیا ہے، یہ ہی اس کی جزا ہوا کرتی ہے۔اور آئندہ کام کے لئے طلب دل میں پیدا ہو جاتی ہے۔ایک ایسا اہم نفسیاتی نقطہ 717