تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 709
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد هفتم خطبہ عید الاضحیہ فرموده 05 اگست 1987ء تو اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنوں میں ان قربانیوں کے ان مضامین کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس کے نتیجہ میں ہم حقیقی واقفین کی زندگیاں خدا کے حضور پیش کرنے والے ہوں، جن میں کوئی انانیت کا ادنی سا شائبہ بھی باقی نہ رہے۔یا درکھیں کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا ہمیں ایک انکساری کا سبق بھی دے رہی ہے۔ابراہیم سے بڑھ کر متقی کون تھا، اس زمانے میں؟ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد شاذ ہی کوئی ہوگا۔ہمارے علم میں نہیں کہ جو ابراہیم جیسا اعلیٰ درجہ کا تقویٰ رکھتا ہو۔اس کے باوجود وہ کس عاجزی سے عرض کر رہے ہیں کہ تقبل منا وتب علينا۔دوباتیں انہوں نے پیش کی ہیں کہ اے خدا! مجھے پتہ نہیں کہ میں اس لائق بھی ہوں کہ میرا وقف تیرے حضور قبول ہو۔میں نہیں جانتا کہ میرا بچہ بھی اس لائق ہے کہ نہیں کہ اس کا وقف تیرے حضور قبول ہو۔اس لئے عرض ہے، یہ مضمون نسب علینا سے کھل جاتا ہے۔عرض کیا ہے کہ میں جانتا ہوں، میرے علم میں ہے کہ ہم میں بہت سی کمزوریاں ہیں۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ میں قبول کئے جانے کے لائق نہیں، میرا بچہ قبول کئے جانے کے لائق نہیں۔ایک ہی صورت ہے کہ تسب علینا ہماری توبہ قبول فرما اور تب علینا کا ایک مطلب ہے کہ رحمت کے ساتھ رجوع فرما، پردہ پوشی فرما، ہمارے گناہوں سے درگزر فرما۔انک انت التواب الرحيم تو تو بار بار توبہ قبول کرنے والا ہے، بہت ہی رحم کرنے والا ہے۔یہ دعا اپنے اندر ایک عظیم الشان انکسار رکھتی ہے۔اور دعا کرنے والا خدا تعالیٰ کا ایک عظیم الشان نبی ہے۔انبیاء میں اس کو ایک خاص مرتبہ حاصل ہے۔تو اگر ایک عام انسان وقف کرے اور یہ سمجھے کہ بس اب میں نے احسان کر دیا جماعت کے اوپر ، اب میں نے خدا پر احسان رکھ دیا، اب اور کیا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ ؟ میں نے وقف کر دیا اب چھٹی ہوئی۔یہ بات نہیں ہوگی۔ابراہیم والا انکسار آپ کو پیدا کرنا ہوگا۔وقف کرتے ہوئے یہ خوف دامن گیر ہو جانا چاہئے کہ کیا تو ہے پر کیا کیا؟ اس لائق بھی ہے کہ نہیں کہ خدا اسے قبول کرے؟ اور یہ جانتے ہوئے کہ لائق نہیں ہے، کامل انکسار کے ساتھ اور عجز کے ساتھ خدا کے حضور یہ التجائیں کریں کہ اے خدا! ہمیں پتہ ہے کچھ بھی نہیں، ہم جانتے ہیں ہم کیا ہیں، کس حال پر کھڑے ہیں۔تو قبول فرما! اس طرح قبول فرما لے کہ تو بہ بھی قبول فرمائے، بخشش فرما، کمزوریوں کو نظر انداز فرما اور ان کو آئندہ دور کرنے کا انتظام فرما! تو یہ انکسار اگر دعاؤں میں شامل ہو گیا تو میں یقین رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ ہم آئندہ ایک صدی نہیں بلکہ آئندہ ہر آنے والی صدی پر ایک عظیم احسان کر رہے ہوں گے۔اور خدا نے جو ہم پر احسان کیا ہوگا ، وہ ان پر رحمتیں اور فضلوں کی بارش بن کے برستا ر ہے گا۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو، آمین۔(مطبوعہ خطبات طاہر (عیدین) صفحہ 447435) 709