تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 699
تحریک جدید - ایک الہی تحریک خطبہ عید الاضحیه فرمودہ 05 اگست 1987ء وقف زندگی کی اہمیت اور شرائط خطبہ عیدالاضحیه فرموده 05 اگست 1987ء تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کریمہ کی تلاوت فرمائی:۔وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرهِمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ وَارِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ الثَّوَابُ الرَّحِيمُ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ابْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِـم إنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ اور پھر فرمایا:۔(البقرة 128 تا 130) یہ عید جو آج کے دن ہم منارہے ہیں، اس کا قربانیوں کے ساتھ ایک تعلق ہے۔جو ہر مسلمان کو معلوم ہے۔چنانچہ اس عید کو عید الاضحیہ یعنی قربانیوں کی عید کا نام دیا گیا ہے۔قربانی کا جیسا عید سے تعلق ہے، ویسا ہی اس کا ایک قبولیت سے بھی تعلق ہے۔اور عموماً اس تعلق کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔قرآن کریم میں جہاں حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کے خانہ کعبہ کی عمارت کی بنیادیں بلند کرنے کا ذکر آیا ہے، وہاں ساتھ ہی یہ دعا بھی ان کی بتلائی گئی کہ دینا تقبل منا اے اللہ ! ہماری طرف سے یہ قبول فرما۔وہ کیا چیز تھی، جسے قبول کرنے کے لئے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام ایک عاجزانہ درخواست کر رہے تھے؟ بالعموم تو دنیا میں یہ خیال پایا جاتا ہے اور عام طور پر جتنی بھی انسان نیکیاں بجالاتا ہے، اسی خیال کے تابع کہ نیکی کرتے ہی خود بخودوہ مقبول ہو جاتی ہے۔اور کہاں انسان ہر نیکی کے ساتھ ساتھ یہ عاجزانہ دعائیں کرتا ہے کہ اے خدا! میری اس نیکی کو بھی قبول فرمالے، اس نیکی کو بھی قبول فرما لے۔اور قرآن کریم سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خود ہی نیکیوں پر بہت ہی پیار کی نظر ڈالتا ہے۔اور خدا کی باریک نظر سے کوئی نیکی اوجھل نہیں رہتی۔چنانچہ فرمایا:۔فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهُ (الزلزال : 8 تا 9) 699