تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 674
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ہفتم خلاصہ خطاب فرموده یکم اگست 1987ء کر سب سے پہلے خدا تعالیٰ کی ہستی کے مضمون کے بارے میں جہاد شروع کرتے ہیں۔اس کے جواب میں ہم نے اشتہار بھی شائع کیا۔اخباروں میں بھی یہ بیان شائع ہوا۔بعض مذہبی تنظیموں نے دلچسپی کا اظہار کیا۔جن میں عیسائی بھی تھے ، یہودی بھی تھے، بعض اور بھی تھے۔اور ایک فورم کا انعقاد ہوا، جس میں خدا کی ہستی پر مختلف مذاہب نے اپنے عقائد کا اظہار کیا۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے وہاں کے ہمارے ایک سوئس مخلص احمدی نے ، جو بڑے ذہین ہیں، انہوں نے لکھا کہ بظاہر یہ ایک کامیابی ہے۔مگر جو آپ کا مقصد تھا، وہ بہر حال پورا نہیں ہوا۔کیونکہ یہ سارے شرکاء محفل اپنے ساتھ اپنے چیلے چانٹے لے کر آئے تھے ، جو پہلے ہی خدا کے قائل ہیں۔اور اس تقریب میں خدا کی ہستی کے بارے میں ان لوگوں کے سامنے دلیلیں پیش کی جا رہی تھیں، جو خدا کو پہلے سے ہی مانتے ہیں۔تو فائدہ کیا ہوا، صرف ایک دکھا واسا ہو گیا ہے۔مربی انچارج نے بھی اسی رائے کا اظہار کیا۔چنانچہ میں نے کہا کہ یونیورسٹی میں جا کر کوشش کریں۔اگر وہ تیار ہوں تو میں آنے کے لئے تیار ہوں۔میں اس مضمون پر وہاں خطاب کروں گا۔یونیورسٹی کے پروفیسروں نے کہا کہ ہم خطاب تو کروالیں گے۔لیکن اگر خدا کی ہستی پر خطاب کروایا گیا تو آئے گا ہی کوئی نہیں۔یہاں کے طلباء آپ کو نہیں جانتے۔بڑے سر پھرے ہیں، کوئی دلچسپی نہیں لے گا۔پروفیسر بینکن بڑے ذہین بھی ہیں اور بڑے نیک دل آدمی بھی ہیں ان کو دلچسپی پیدا ہوگئی۔اس تقریب میں انہوں نے کہا کہ میں ایک ترکیب بتاتا ہوں۔میں عنوان یہ رکھتا ہوں (جو اوپر بیان کیا گیا ہے ) اس میں الہام REVELETION کے ذریعے جو کھڑ کی کھولی جائے گی، اس میں آپ خدا کا ذکر شروع کر دیں اور جو کہنا چاہتے ہیں، کہہ دیں۔لیکن بنیادی طور پر مضمون ہو، ٹروتھ ، شنلزم، ریوی لین اور نالج (یعنی چائی، عقل، البام اور علم )۔چنانچہ ان کی یہ ترکیب کارگر ہوئی۔اس مضمون پر جو لیکچر میں نے وہاں دیا، اس کا ترجمہ شیخ ناصر احمد صاحب نے کیا۔سارا لیکچر تو وہاں پڑھا جانا ناممکن تھا، اس کے ایک تہائی حصہ کا ترجمہ کر کے شیخ ناصر احمد صاحب نے پیش کیا۔ایک گھنٹے کے لگ بھگ وہ مضمون پڑھا جانا تھا، اس لئے میں نے نہیں پڑھا۔انگریزی والا حصہ صرف شیخ صاحب نے ترجمہ کر کے سنادیا اور اس کے بعد سوال و جواب کا موقع ملا۔اس سے پہلے پروفیسر بینکن یہ کہہ چکے تھے کہ اس ہال میں اس سے پہلے چرچل کا لیکچر ہوا تھا اور اکثر ہال خالی تھا۔اب جماعت احمدیہ کے لئے چیلنج ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ کتنے آدمی اس کو سننے کے لئے آتے ہیں؟ ہماری دنیا دی تو حیثیت ہی کوئی نہیں لیکن دعائیں ضرور ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ وہ سارا ہال کھچا کھچ بھر گیا۔اس سے اوپر زائد ایک گیلری تھی ، وہ بھی بھر گئی۔چنانچہ ایک تیسرے کمرے ٹیلی ویژن کے ذریعے تقریر اور مقرر کی تصویر 674