تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 656 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 656

خلاصہ خطاب فرمودہ یکم اگست 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہفتم ہیں۔ان کو خدا تعالیٰ ان کی کوششوں کا پھل بھی بڑا دے رہا ہے۔جہاں جاتے ہیں، ان کی زبان میں بڑا اثر ہوتا ہے۔خدا ان کی تائید کرتا ہے۔ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ ایک گاؤں میں جب یہ پہنچے تو وہاں کے امام نے وہاں لوگوں کو اکٹھا کیا اور سب کو دعوت دی کہ ان کی بات غور سے سنو اور اگر تمہیں پسند آئے اور تم درست سمجھو تو اسے قبول کرو۔چنانچہ اسی ایک مجلس میں امام صاحب سمیت سارا گاؤں احمدی ہو گیا۔اس طرح اس کے ساتھ لاکھور ، جا کوئی اور سنسیان تین گاؤں پورے کے پورے، وہ بھی بعد ازاں انہی دائمیین الی اللہ کی کوششوں سے احمدی گاؤں بن گئے۔اسی طرح سینی گال میں بھی داعین الی اللہ بڑے عزم کے ساتھ اور اخلاص کے ساتھ حرکت میں آچکے ہیں۔اور وہ لکھتے ہیں کہ جو ہزار، بارہ سو کے قریب بیعتیں اس سال ہوئی ہیں، ان میں دائمین الی اللہ کا ہی بڑا دخل ہے۔ایک بات میں آپ کو بتادوں کہ عموماً یہ پروپیگنڈہ احمدیوں کے خلاف کیا جاتا ہے کہ احمدی لوگ مسلمانوں کے اندر ہی دھوکہ دے کر کام کرتے ہیں۔اور پھر یہ کہتے ہیں کہ ہم افریقہ کے اندر دین مصطفیٰ پہنچارہے ہیں۔چنانچہ بتانے کی بات یہ ہے کہ یہاں جو کام ہو رہا ہے، یہ سارا مشرکین میں ہو رہا ہے۔اور یہ بتوں کے پجاری تھے، جو حلقہ بگوش دین حق ہورہے ہیں۔اور مرزا غلام احمد کا نہیں، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھ کر دین حق میں داخل ہو رہے ہیں۔حضور نے فرمایا:۔چنانچہ ان کی رپورٹ کا خلاصہ بارہ صفحے سے بھی زائد ہے۔اس کا مزید خلاصہ یہ ہے داعین الی اللہ کی کوششوں سے ایک سال کے اندر خدا کے فضل سے 44 نئے مقامات پر دو ہزار، ایک سو، چھیانوے بیعتیں ہوئی ہیں۔اب آپ بتائیں کہ گیمبیا کے دور دراز ملک میں وہ لوگ جو حال ہی میں احمدیت میں داخل ہوئے ہیں، اگر وہ اس جذبے سے دعوت الی اللہ کر سکتے ہیں اور ان کو خدا تعالیٰ ایسے غیر معمولی پھل عطا کر سکتا ہے تو آپ کو، آپ سب کو یا ان کو جو آپ کے پیچھے ان ممالک میں بس رہے ہیں، ان کو کیوں یہ توفیق عطا نہیں فرما سکتا۔اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ سینی گال کے ایک داعی الی اللہ کے بارے میں لکھتے ہیں: وہاں ایک ان پڑھ دوست احمدی ہو گئے اور انہوں نے ان پڑھ ہونے کے باوجود دعوت الی اللہ شروع کر دی۔اپنا نام انہوں نے لکھوادیا تھا کہ میں داعی الی اللہ بنا چاہتا ہوں۔اور اپنے علاقے میں وہ اتنا اثر پیدا کر چکے تھے کہ جب مربیان وہاں پہنچے تو سولہ گاؤں کے دوست پہلے ہی بیعتوں کے لئے تیار تھے۔صرف وہ کچھ سوالات کرنا چاہتے تھے، جن کے جوابات وہ نہیں دے سکتے تھے۔سے انہوں نے سوالات کئے تو ان کو اطمینان ہو گیا اور وہ احمدیت میں شامل ہو گئے۔مربی 656