تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 652 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 652

خلاصہ خطاب فرمودہ یکم اگست 1987ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد ہفتم ہے؟ اور ہر گز آپ کو رجسٹریشن نہیں کرنی چاہیے تھی۔پرائم منسٹر نے بڑی مضبوطی کے ساتھ جماعت کی تائید میں بیان دیا۔اور یہ اعلان کیا کہ (ویسے تو اس کا اپنا مذہب بھی عیسائیت ہے۔مگر اس نے وہاں یہ کہا کہ میں آپ کو یہ مشورہ دیتا ہوں کہ جو عیسائی ہیں، وہ عیسائیت کے قانون کی پیروی کرتے رہیں، ہم بحیثیت حکومت تو الو کے قانون کی پیروی کرتے رہیں گے۔اور اس میں عیسائیت کو دخل دینے کی اجازت نہیں دیں گے۔اس لئے جماعت احمد یہ ٹھیک رجسٹر ہوئی ہے اور قائم رہے گی۔اس بیان پر گورنر جنرل نے پرائم منسٹر کو مبارک باد کا فون کیا اور کہا کہ میں ڈر ہا تھا کہ کہیں تم کوئی کمزور پوزیشن نہ لے لو۔تم نے بہت اچھا کام کیا ہے اور جائز فیصلہ کیا ہے۔پس خدا کے فضل سے جہاں اللہ تعالیٰ کا میابیاں عطا فرما رہا ہے، وہاں فرشتوں کے ذریعے لوگوں کو انصاف پر قائم ہونے کی بھی قوت بخش رہا ہے۔صرف بدنصیبی یہ ہے کہ بعض اپنے ممالک سے ہمیں یہ شکوہ ہے کہ اسلام کی انصاف کی اعلیٰ تعلیم پر عمل پیرا نہیں۔اور وہ لوگ ، جو اسلام سے تعلق نہیں رکھتے، وہ بڑی شان کے ساتھ اسلام کی عدل کی تعلیم پر عمل کر رہے ہیں۔یہاں تو الو میں جو بیعتیں ہوئی ہیں، ان میں خدا کے فضل سے بڑے تعلیم یافتہ بااثر لوگ بھی شامل ہیں۔اور ان کی پبلک سروس کمیشن کے پریذیڈنٹ بھی بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو چکے ہیں اور پولیس کے وہ افسر جن کی گورنر جنرل کے ساتھ ڈیوٹی ہے، وہ بھی جماعت کے ساتھ شامل ہیں۔اور یہ دونوں دوست آج جماعت تو الو کے نمائندہ کے طور پر یہاں آئے ہوئے ہیں۔اس مرحلے پر حضور نے ان دونوں دوستوں کو ارشاد فرمایا کہ وہ اٹھ کر کھڑے ہوں تا کہ احباب ان کو دیکھ سکیں۔اس پر یہ دونوں مخلص احمدی احباب اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ان دوستوں کو دیکھ کر جملہ احباب خوشی و مسرت سے بے خود ہو گئے اور جلسہ گاہ کا وسیع و عریض پنڈال احمدیوں کے جوش و جذبے سے بھرے ہوئے نعرہ ہائے تکبیر سے لرزنے لگا۔حضور نے ان احباب کا تعارف کرواتے ہوئے حاضرین جلسہ کو بتایا کہ ”ان میں سے جو دوست نسبتاً حاضرین کی طرف کھڑے ہیں، وہ وہاں کی پبلک سروس کمیشن کے چیئر مین ہیں اور انہوں نے جب سے احمدیت قبول کی ہے، مسلسل خدمت دین کے لئے وقف ہیں۔ان کی زبان دانی کی صلاحیت نہایت اعلیٰ درجہ کی ہے۔انگریزی پر بھی عبور ہے اور مقامی زبان پر بھی۔چنانچہ اس وقت سے جماعت احمدیہ کے لٹریچر کے تراجم کر رہے ہیں۔اور قرآن کریم کی جو منتخبہ آیات کا ترجمہ تھا، اس کی بھی انہی کو تو فیق ملی ہے۔ان کے ساتھ جو دوسرے دوست ہیں، وہ پولیس کے وہ افسر ہیں، جو گورنر جنرل کو 652