تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 636 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 636

خلاصہ خطاب فرمودہ یکم اگست 1987ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک کروڑ ، ایک لاکھ۔دارالحکومت لزبن اور زبان پرتگالی (پور چوگیز ) ہے۔مذہب عیسائیت۔جو96 فیصد رومن کیتھولک ہیں۔یہاں گزشتہ چند سال سے میں کوشش کر رہا تھا کہ پین کی معرفت یا کسی اور ذرائع سے جماعت رجسٹر ہو جائے۔اور وہاں ہم باقاعدہ مشن کا آغاز کریں۔مگر باوجود کوشش کے ہم اس میں ناکام رہے۔مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس خواہش کو اس طرح پورا فرما دیا کہ ہماری ایک احمدی خاتون سٹرامینہ برازیل میں احمدیت میں داخل ہوئیں، ان کی زبان پرتگالی ہے اور وہ پرانی پرتگال کی ہی باشندہ تھیں۔اس لئے مجھے یہ خیال آیا کہ ان کے سپرد یہ کام کیا جائے۔کیونکہ وہ خدمت دین کا بہت شوق رکھتی تھیں اور جب سے وہ احمدی ہوئی ہیں، کئی کتابوں اور پمفلٹوں کے ترجمے کر چکی ہیں۔اور قرآن کریم کے ترجمے کی دہرائی میں بھی انہوں نے بڑی محنت سے کام کیا ہے۔انہوں نے مجھے خط لکھا کہ میں جو احمدی ہوئی ہوں تو پرانے زمانے کی میری ایک دلی آرزو اور دعا کے ذریعے ایسا ہوا ہے۔اگرچہ میں عیسائیت میں پیدا ہوئی مگر شدید تمنا تھی کہ خدا مجھے سچائی تک پہنچائے۔چنانچہ جب میں نے اس بارہ میں دعائیں کیں تو خدا تعالیٰ نے مجھے ایک واضح نظارہ دکھایا اور اطمینان دلایا کہ آئندہ ہم تمہیں اس مذہب سے متعارف کروا دیں گے، جو سچائی کا مذہب ہے۔چنانچہ جب مجھ تک احمدیت کا پیغام پہنچا تو مجھے ایک ذرہ بھی شک پیدا نہیں ہوا کہ یہ وہی مذہب ہے اور میں خوشی سے احمدیت میں داخل ہو گئی۔وہ اس جلسے میں تشریف لائی ہوئی ہیں۔چنانچہ یہ ان کو توفیق ملی کہ پرتگال میں پہلی بار جماعت احمدیہ کو رجسٹر کروانے میں کامیاب ہو گئیں۔ناؤ روا یک نیا جنوبی بحر الکاہل کا جزیرہ ہے، جوتو الو سے اوپر تقریبا شمال میں واقع ہے۔یہ جزیرہ دنیا کی سب سے چھوٹی ری پبلک ہے۔اس کا رقبہ صرف آٹھ مربع میل ہے۔یعنی دو میل ایک طرف اور چار میل ایک طرف۔یہ ملک آسٹریلیا کے ماتحت تھا۔1968ء میں آزاد ہوا۔آبادی آٹھ ہزار ایک سو ہے۔زبان انگریزی ہے۔مذہب عیسائیت ہے، جس میں 66 فی صد پر انسٹنٹ ہیں۔تو الو میں جیسا کہ آپ جانتے ہیں ، ہمارے ایک بہت ہی مخلص اور فدائی رضا کا راحمدی مربی افتخار ایاز صاحب نے جماعت کو قائم کیا تھا۔وہاں جب داعی الی اللہ کی تحریک چلائی گئی تو تو الو کے ایک دوست نے از خود نا ؤ ر و کو احمدی بنانے کا عزم کیا۔اور باوجود اس کے کہ توالو میں غربت ہے، احمدی مربی کے اصرار کے باوجود انہوں نے کوئی کرایہ قبول نہیں کیا۔اور کہا کہ میں محض اللہ خدمت دین کے لئے جانا چاہتا ہوں۔اپنے خرچ پر جاؤں گا۔وہ وہاں گئے اور خدا کے فضل سے پہلے ہی دورے میں چھ خاندانوں کو احمدی بنانے کی توفیق ملی۔636