تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 631
تحریک جدید - ایک الہی تحریک خلاصہ خطاب فرمودہ یکم اگست 1987ء دوران سال نازل ہونے والے الہی افضال اور جماعتی ترقیات کا تذکرہ خطاب فرمود و یکم اگست 1987ء بر موقع جلسه سالانه برطانیه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ برطانیہ کے دوسرے روز کے جلسہ کے دوسرے اجلاس میں اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا کہ یوں تو ایک باشعور انسان ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد کرتارہتا ہے۔اور میں امید رکھتا ہوں کہ ہر احمدی اس حیثیت سے ایک باشعور انسان کہلانے کا مستحق ہے۔لیکن بعض خاص مواقع ایسے بھی آتے ہیں جبکہ ذکر الہی میں تیزی پیدا ہو جاتی ہے اور اس کی حمد کا بیان ایک خاص اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔اور انسان شکر کے تقاضے پورے کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔اگر چہ شکر کے تقاضے جہاں تک خدا کی ذات کا تعلق ہے، پورے ہو نہیں سکتے۔آج بھی ایک ایسا ہی دن ہے۔اور آج بھی اس وقت جماعت کی پرانی روایات کے مطابق خصوصیت کے ساتھ شکر کے جذبات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا اور اس کی رحمتوں کا ذکر چلتا ہے۔حضور نے فرمایا اس سال بھر میں خدا تعالیٰ جماعت احمدیہ کے لئے جتنے فضل لے کر آتا ہے، ان کا بیان ایک تھوڑے کر سے وقت میں ممکن نہیں۔اور صرف اگر ایک ملک کی ایک ہی جماعت کو دیکھ لیا جائے اور وہاں جو خدا تعالیٰ مسلسل احسانات فرما رہا ہے، ان کے ذکر کو بھی سمیٹنے کی کوشش کی جائے، تب بھی یہ ممکن نہیں کہ ایک دن کے خطاب میں انسان ان کے ذکر کا حق ادا کر سکیں۔اس لئے جیسا کہ ہمیشہ سے یہ دستور چلا آرہا ہے، ہم بڑی کوشش کر کے، محنت کر کے تمام سال میں ہونے والے مختلف واقعات اور اللہ تعالیٰ کے نازل ہونے والے فضلوں کے مختلف مظاہر کو دیکھ کر ایسی رپورٹ تیار کرتے ہیں، جو مختصرا اہم شعبوں کو اپنے اندر سمیٹ لے۔اس لئے جماعت احمدیہ کی دلچسپیوں کے سارے شعبے تو بہر حال زیر نظر نہیں آسکتے۔مگر چند اہم شعبوں میں بعض چیدہ چیدہ باتیں، جو اس سال رونما ہوئیں، ان کا ذکر میں آج آپ کے سامنے کرنے لگا ہوں۔631