تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 611 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 611

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 1987ء کہ ہم خود ہی بنائیں گے، سب کچھ۔کوئی جماعت پہ بوجھ نہیں ہوگا۔یعنی مددنہیں مانگیں گے کسی اور سے۔لیکن ہمیں پھر بھی ، آخر ہم نئے ہیں، ہمیں دینی تربیت کے لئے کوئی آدمی چاہیئے۔آپ ہمارے لئے کچھ فکر کریں۔کہیں یہ نہ ہو کہ بعض غلط باتیں ہم میں رائج ہو جائیں۔تو اس معاملے میں تو جس طرح چھت پھاڑ کر ملتا ہے رزق، اسی طرح کی کیفیت ہے۔کوئی جماعتی کوشش کا اس میں دخل نہیں ہے۔لیکن بہت سے ایسے وہ مقامات بھی ہیں، جہاں بظاہر جماعتی کوشش کا دخل نظر آرہا ہے۔لیکن امر واقعہ ہے کہ اللہ کی تقدیر خود پیدا کر رہی ہے سامان۔اس قسم کے واقعات نصیحت کے طور پر ہیں۔یہ بتانے کے لئے کہ کہیں تم اپنی کوششوں کی طرف ان روحانی پھلوں کو منسوب کر کے متکبر نہ ہو جانا۔یہ نہ سمجھ لینا کہ تم نے کیا ہے۔چونکہ تکبر کا مضمون بیان ہو رہا ہے، اس لئے میں اس بات کو بھی کھول دینا چاہتا ہوں کہ نئے نئے علاقوں میں جو جماعت پھیل رہی ہے، بعض دفعہ نظر آتا ہے کہ گویا جماعت نے یہ ترکیب کی اور اس کو یہ پھل لگ گیا، حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ وہی ترکیبیں پہلے ہو چکی تھیں اور ان کو کوئی پھل نہیں لگا تھا۔اس لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک سازگار ہوا چلائی جارہی ہے، کچھ پھل ہیں، جو پکائے جارہے ہیں۔اس لئے کہ جماعت ترقی کے بالکل نئے دور میں داخل ہونے والی ہے۔بہت ہی عظیم الشان ترقیات آپ کا انتظار کر رہی ہیں۔ان کے لئے اللہ تعالیٰ آپ کو تیار فرما رہا ہے۔اس لئے مجھے یقین ہے کہ اگلی صدی میں لکھوکھا واقفین زندگی کی ضرورت پڑے گی۔اسی لئے میں نے جماعت میں ایک تحریک کی تھی کہ ابھی سے اپنے بچے پیش کر دیں تا کہ پھر جب ہم صدی میں داخل ہوں تو خدا کے حضور پہلے ہی تیار ہو کر حاضر ہوں۔اور جب بھی خدا کے حضور کوئی قربانی پیش کی جاتی ہے، اس کے لئے مصارف کا انتظام بھی اللہ تعالیٰ خود ہی فرما دیتا ہے۔اگر لاکھ واقفین آپ پیش کریں گے تو یقین جانیں کہ لاکھ واقفین کے لئے تمام ضروری سامان خدا خود مہیا فرمائے گا۔مشکلوں کے لئے جگہ عطا کرے گا، ان کے تبلیغ کے لئے جتنی بھی ضرورتیں ہیں ، وہ ضرورتیں پوری فرمائے گا، ان کے اپنے لئے رزق کا انتظام فرمائے گا اور پھر اسی نسبت سے نئی نئی قوموں میں، نئے نئے علاقوں میں احمدیت اور اسلام کی طرف رجحان پیدا فرما دے گا۔تو بعض دعائیں ہوتی ہیں زبان کی دعائیں، بعض ہوتی ہیں عمل کی دعا ئیں۔یہ بھی میرے ذہن میں ایک بات تھی کہ ہم عملاً خدا کے حضور دعا کے طور پر یہ بچے پیش کر دیں کہ اللہ تیرے حضور حاضر ہیں، اب تو سنبھال، تیرا کام ہے۔اب ہمارے نہیں رہے، تیرے ہو گئے ہیں۔تو نے ہی ان کو پالنا ہے، تو نے ہی ان کے لئے سارے انتظامات فرمانے ہیں، ان سے کام لینے کے انتظامات فرمانے ہیں۔611