تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 605
تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقتباس از خطبه جمعه فرموده 03 جولائی 1987ء پس اس نقطہ نگاہ سے اگر دیکھیں تو بیرونی جماعتوں کا ساٹھ فیصد کے قریب جو بلی کو چندہ ادا کرنا ، ایک فرضی عدد ہے۔آج اگر جائزہ لیا جاتا اور آج تحریک ہوتی تو پانچ کروڑ کی بجائے مجھے یقین ہے کہ بیس کروڑ کے قریب و عدے ہوتے۔تو عملاً اگر آپ نے تین کروڑ ادا کیا ہے تو ہیں کے مقابل پر تین کیا ہے نہ کہ پانچ کے مقابل پر۔لیکن اس کے باوجود بعض بیرونی جماعتیں ایسی ہیں، یورپ میں ہیں مثلاً جو خدا کے فضل سے اپنی توفیق کے مطابق اور بعض جگہ اپنی توفیق کو کھینچ کر آگے بڑھ رہی ہیں اور ادائیگیوں میں خدا کے فضل سے صف اول میں ہیں۔ان پر کسی اور وجہ سے انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے یاددہانی کی کمی کی وجہ سے یہ بوجھ اچانک پڑ گیا ہے۔ان کو گویا اب یاد آیا کہ اوہو! ہم نے تو ایک بہت بڑا چندہ ادا کرنا تھا، جو پہلے کرنا چاہئے تھا۔اب وقت تھوڑا رہ گیا ہے تو ہمیں یاد کرایا جا رہا ہے۔اس لحاظ سے وہ ان کی حالت خاص دعا کی محتاج ہے۔مگر تمام دنیا میں اس چندے کی طرف اب خصوصی توجہ دینے کا وقت آگیا ہے۔اب تو آج اور جوبلی کے سال کے درمیان وقت ہی کوئی نہیں رہا۔سارے جو پروگرام بنائے جارہے تھے، اب ان پروگراموں پر عمل درآمد کا وقت ہے۔اور تیزی سے وہ اخراجات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اور اگر اب تاخیر کر دی گئی تو خطرہ ہے کہ وقت پر ہم ان کاموں کو ختم نہیں کر سکیں گے۔اس لئے دعا کریں اور حوصلہ کریں۔جو پاکستان کے حالات میں نے بیان کئے ہیں، اس لئے بتائے ہیں تا کہ آپ کے اندر حوصلہ پیدا ہو اور تو کل پیدا ہو۔آپ اگر اخلاص کے ساتھ یہ نیت کر لیں کہ ہم نے تمام بقایا ادا کر دینے ہیں اور شرح کے مطابق چندوں میں کمی نہیں آنے دینی اور دعا کریں اور اخلاص کے ساتھ اپنے دل کو اس خیال۔منسلک کرلیں، باندھ لیں ، یعنی اٹھتے بیٹھتے خود بخود ذہن اس ذمہ داری کی طرف منتقل ہونا شروع ہو جائے۔یہ آپ کریں تو باقی سارے کام خدا کی تقدیر کرے گی۔اور بالآخر جب آپ سب ادائیگیوں سے فارغ ہوں گے تو مالی لحاظ سے پہلے سے بہتر حالت ہوگی، بدتر حالت نہیں ہوگی۔یہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں۔کیونکہ ساری دنیا میں سالہا سال کا تقریباً ایک صدی کا تازہ تجربہ ہے، اسی طرح خدا سلوک فرما یا کرتا ہے۔ہماری کم ہمتی حائل ہو جائے تو ہو جائے ورنہ جہاں تک اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تعلق ہے، اس کی عطا کا تعلق ہے، وہ کبھی بھی اپنی راہ میں مالی قربانی کرنے والوں کو خالی ہاتھ نہیں رہنے دیا کرتا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔اور جماعت جو اس وقت ایک نشان بنی ہوئی ہے دنیا میں مالی قربانی کے لحاظ سے، جماعت کا یہ اعجاز ہر حال میں، ہر صورت میں، چاہے خزاں کے دن ہوں، خواہ بہار کے دن ہوں، ہمیشہ پہلے سے زیادہ شان کے ساتھ چمکتا رہے ، آمین۔(مطبوعہ خطبات طاہر جلد 16 صفحہ 441 447) 605