تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 597 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 597

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہفتم خلاصہ خطاب فرموده 14 جون 1987ء بات میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ خدا کے فرشتے دنیا کے حالات کے متعلق جو کچھ دنیا میں گزر رہا ہے، ریکارڈ رکھتے ہیں۔اور یہ ریکارڈ ملاء اعلیٰ میں خدا کے حضور پیش کیا جاتا ہے۔ایسے ہی ایک مامور فرشتے نے خدا سے عرض کیا کہ اے خدا ! فلاں وقت فلاں جگہ کچھ لوگ خالصہ اس لئے اکٹھے ہوئے تھے کہ تیرا ذ کر کریں۔اور جب تک میں ان کی نگرانی کرتا رہا، وہ تیرے ہی ذکر میں اور تیری ہی محبت کی باتوں میں مشغول رہے۔یہ بات جب اس نے پیش کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے ان کے سارے گناہ بخش دیئے اور میں انہیں مغفرت کی خوشخبری دیتا ہوں اور جنت کی خوشخبری دیتا ہوں۔اس پر اس پیش کرنے والے فرشتے نے عرض کیا کہ اے خدا! اس مجلس میں کچھ ایسے بھی لوگ شامل ہو گئے تھے ، جو مسافر تھے۔ایک مجلس دیکھ کر وہاں رک گئے اور ستانے کے لئے ٹھہر گئے ، ان کا مقصد ذکر الہی نہیں تھا۔کیا وہ بھی اس خوشخبری میں شامل ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں، وہ بھی۔کیونکہ وہ لوگ جو میر اذکر کرتے ہیں، ان کے پاس آنے والے بھی ان کی برکتیں پا جاتے ہیں، ان کے قریب بیٹھنے والے بھی برکتوں سے محروم نہیں رہتے۔اس کے نتیجہ میں اکثر لوگ جب اس حدیث کو سنتے ہیں تو یہ خیال کر لیتے ہیں کہ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنی چاہئے۔لیکن اس حدیث میں جو پیغام مخفی ہے، اس پیغام کو نہیں سمجھ سکتے۔پیغام یہ ہے کہ اگر تم واقعی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے ہو اور واقعہ اللہ تعالی سے محبت کرتے ہو تو ہمیشہ تمہارا فیض تمہارے ساتھیوں کو پہنچتا رہنا چاہئے“۔مزید فرمایا:۔یہ قانون طبعی ہے۔یہ ہو نہیں سکتا کہ خدا کا ذکر کرنے والا ہو اور اس کے ساتھی اس سے محروم رہ جائیں۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے فرمایا: اے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والو! تم گو بہترین امت ہو، جو کبھی بنی نوع انسان کے لئے نکالی گئی تھی لیکن اخرجت للناس اس لئے بہترین امت ہو کہ تم بنی نوع انسان کو خیر پہنچانے کی خاطر پیدا کی گئی ہو۔اس لئے کہ تمہاری خیر اور تمہاری بھلائی تم تک نہیں ٹھہرتی بلکہ بنی نوع انسان تک آگے پھیلتی چلی جاتی ہے۔پس اگر تم دنیا کی بھلائی کے کام چھوڑ دو گے تو خیرامۃ نہیں رہو گے۔اور خیرامۃ ہو تو اس لئے نہیں کہ تم نے ایک رسول کو قبول کر لیا بلکہ اس لئے کہ اس رسول کے فیض کے نتیجہ میں تم تمام بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچانے والے بن گئے۔پس اگر آج یورپ میں بسنے والا احمدی اس بنیادی تعریف پر پورا اترتا ہے۔اس قرآن کی آیت کے مفہوم کو پیش نظر رکھتا ہے۔اس حدیث کے مفہوم کو پیش نظر رکھتا ہے، جو میں نے ابھی آپ کو سنائی تو یہ 597