تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 598
خلاصہ خطاب فرموده 14 جون 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم ممکن ہی نہیں کہ افاضہ خیر کے بغیر زندہ رہ سکے۔یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ لوگوں کی بھلائی کے تصور میں زندگی گزارے بغیر اطمینان پاسکے۔اس لئے آپ کا مقصد اعلیٰ جو قرآن کریم نے بیان فرمایا، آپ کی زندگی کا قبلہ وکعبہ جو خدا نے مقرر فرمایا، وہ یہی ہے کہ آپ بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے ہمیشہ کوشش کرتے ر ہیں۔خواہ وہ آپ کی مانیں یا نہ مانیں۔خواہ وہ آپ سے حسن سلوک کریں یا نہ کریں ؟ آپ ان کی بھلائی کے لئے ہمیشہ کوشش کرتے رہیں۔ایسا کریں تو کافروں پر بھی خدا کی رحمت کی بارشیں برستی ہیں۔اس کو گالیاں دینے والے بھی اس کے قانون قدرت سے فیض پارہے ہیں۔ان کی فصلیں بھی پھل اگاتی ہیں۔ان کی محنتیں بھی بیٹھے ثمرات پیدا کرتی ہیں۔اور خدا تعالیٰ کی رحمت کوئی تفریق نہیں کرتی کہ کون لوگ دہریہ ہیں اور کون غیر دہریہ؟ جہاں تک اس کی عام رحمت کا تعلق ہے، وہ سب کے لئے یکساں جاری ہے۔سب کے لئے فیض رساں ہے۔پس یہ وہ ادنی تعریف ہے مومن کی ، جو مومن کی ذات میں جاری ہونی ضروری ہے کہ اس کے بغیر مومن کی آواز میں قوت پیدا نہیں ہوتی۔دلوں کو جیتنے کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔پس آپ اپنے گردو پیش کو اگر جیتنا چاہتے ہیں گواپنے فیض کے ذریعہ جیتیں ، اپنی محبت کے ذریعہ جیتیں ، اپنے پیار کے ذریعہ جیتیں، اپنے لئے نہیں بلکہ اپنے خدا کے لئے جیتیں۔تا کہ آپ کی طمانیت ان کے وجود میں اس طرح منتقل ہو، جیسے RADIATION ایک وجود سے دوسرے میں منتقل ہوتی ہے۔تا کہ وہ بھی آپ کے رنگ ڈھنگ سیکھ کر خدا والے بنیں اور بنی نوع انسان کے لئے فیض رساں وجود بنتے چلے جائیں۔یہ کوشش تبھی کامیاب ہو سکتی ہے، اگر دعاؤں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اس سے آپ مدد مانگتے رہیں، اس سے پاک تبدیلیوں کے متمنی رہیں، اس کی صفات سے محبت کرنے لگیں، اس کی صفات سے محبت کے نتیجہ میں اس کی صفات کو اپنے اندر جاری کرنے کے لئے ہمیشہ کوشش کرتے رہیں۔اگر آپ ایسا کریں گے اور دعاؤں کے ذریعہ مدد حاصل کریں گے تو یقینا آپ ان علاقوں کی قسمت بدلنے والے بن جائیں گے، وہ بھیا نک خلاء، جو ان کے سینوں میں پیدا ہو چکے ہیں، وہ بے قراریاں اور بے چینیاں جو ان کے وجود پر قابض ہو چکی ہیں، ان کا علاج آپ کے پاس ہے۔لیکن یہ علاج ان تک پہنچائیں تو سہی۔اس علاج کی افادیت ان پر ثابت کریں۔محض نظریاتی لڑائیوں سے یا محض یہ ثابت کرنے سے کہ قرآن یہ کہتا ہے اور بائبل وہ کہتی ہے اور ان دونوں کے موازنہ کرنے سے یہ بات درست نکلتی ہے اور وہ بات غلط نکلتی ہے، آپ کوئی عملی فتح ان قوموں پر حاصل نہیں کر سکتے۔آج بھاری اکثریت 598