تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 596
خلاصہ خطاب فرمودہ 14 جون 1987ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد ہفتم طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔ہزار باتوں کی بجائے تقویٰ سے قوت پانے والا بعض اوقات ایک فقرہ ہی وہ رنگ دکھاتا ہے، جو ہزار باتیں نہیں دکھا سکتیں۔اس لئے سب سے زیادہ زور اس بات پر دیں کہ جس کے آپ نمائندہ ہیں۔اس کی نمائندگی کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں۔اس دنیا میں رہتے ہوئے بھی عالم بقاء کے لوگ بننے کی کوشش کریں، جو دنیا سے ہر طرح کا تعلق رکھتے ہوئے بھی دنیا سے بے نیاز ہیں“۔مومن کے دنیا سے تعلق کی مثال دیتے ہوئے فرمایا:۔مولانا روم کی اس مثال کو پیش نظر رکھیں، جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ پانی اور کشتی کا ایک ایسا اٹوٹ تعلق ہے کہ اگر کشتی کو پانی سے الگ کر دیا جائے تو کشتی کا وجود ہی ختم ہو جاتا ہے۔اسے کشتی کہنا ہی بے معنی بات بن جاتی ہے۔لیکن کشتی تبھی دنیا کو غرق ہونے سے بچا سکتی ہے اور انسانوں کو غرق ہونے سے بچا سکتی ہے، اگر وہ پانی کے اوپر رہے۔اگر پانی کشتی کے اوپر آ جائے تو کشتی غرقابی سے بچانے کی بجائے غرقاب کرنے والا ایک ذریعہ بن جاتی ہے۔اس طرح مومن کا دنیا سے تعلق ہے۔اس دنیا میں جب تک وہ زندگی بسر کرتا ہے تو ناممکن ہے کہ اس دنیا کے معاملات سے الگ رہے۔لیکن دنیا پر فائق رہ کر دنیا پر غالب رہ کر دنیا کی سطح کے اوپر حکومت کرتا ہے۔دنیا سے مغلوب ہو کر نہیں۔پس آپ بھی دنیا میں اس طرح رہیں کہ ہر طرح کا تعلق جوڑنے کے باوجود اس سے مرعوب ہو کر نہ رہیں۔اس پر غالب ہو کر رہیں۔ہمیشہ یہ احساس اپنے ذہن میں غالب رکھیں کہ آپ خدا کے نمائندہ ہیں۔اور جس طرح خدا ہر فیض کا سر چشمہ ہے، آپ سے بھی فیضی دنیا تک پہنچے۔ہمیشہ یہ کوشش کرتے رہیں کہ آپ کسی نہ کسی رنگ میں کسی انسان کے لئے بھلائی کا موجب بن جائیں۔خدمت کے موقعوں کی تلاش میں رہیں۔حسن خلق کے ذریعہ بھی یہ خدمت ہو سکتی ہے، مسکراہٹوں اور پیار کے ذریعہ بھی یہ خدمت ہو سکتی ہے، مصیبت زدہ کو مصیبت سے نکالنے کی کوشش کے ذریعہ، بیمار پرسی کرنے کے ذریعہ ، خدا سے غافل لوگوں کو خدا کی طرف متوجہ کر کے، دعاؤں سے آشنا کر کے بھی یہ خدمت ہو سکتی ہے۔غرضیکہ ایسے بن جائیں کہ ہمیشہ ذہن خدمت کی راہیں تلاش کرتا رہے۔ہمیشہ ذہن یہ سوچتار ہے کہ میں کس طرح فیض رساں وجود بنوں اور میری ذات سے ان لوگوں کو ضرور کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچے۔یہی وہ راز ہے، جس کو نہ سمجھنے کے نتیجہ میں بعض دفعہ لوگ احادیث کو پڑھتے بھی ہیں لیکن ان کے اندر مخفی خزانوں سے ناواقف رہتے ہیں۔احادیث ہیں لیکن انکے اندر نخی انوں سے پھر فرمایا:۔نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ تمثیل کے طور پر خدا کا ذکر کرنے والوں کے بعض السلام واقعات بیان فرمائے۔ایک دفعہ نہیں بلکہ بار بار آپ نے ایسے واقعات بیان فرمائے۔جن میں سے ایک 596