تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 594
خلاصہ خطاب فرمودہ 14 جون 1987 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم کی ضرورت ہے۔اس لئے ہر وہ احمدی ، جو داعی الی اللہ ہونے کا دعویٰ اور کوشش کرتا ہے کہ نظریات کی دنیا میں ان کو مطمئن کرائے کہ ہمارا دین بہتر ہے۔ان کا مذہب ہمارے مذہب کے مقابلہ میں ان کے لئے کم نفع بخش ہے۔بسا اوقات ایسا احمدی سالہا سال تک کوشش کرتا چلا جاتا ہے اور اس کو کوئی پھل نہیں ملتا۔کوئی شخص بھی اس کے مضبوط دلائل کے سننے کے نتیجہ میں ان سے مطمئن ہو کر احمدیت قبول نہیں کرتا۔اور پھر یہ داعی الی اللہ مجھے شکوہ کے خط لکھتا ہے۔شکوہ کے نہیں تو شکایت کے کہہ لیں کہ ہم کیا کریں؟ ہم پوری کوشش کرتے ہیں دلائل سے اپنے مدمقابل کو ہر پہلو سے شکست دے دیتے ہیں۔لیکن وہ ہمارے دین کو قبول کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہوتا۔اس کا کیا حل ہے؟“ فرمایا:۔میں انہیں آج یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اپنے دعوئی کے سامنے اپنے عمل کا سر تو خم کریں۔اپنے دعوئی کو اپنے اعمال میں تو جاری کریں۔خود ان کے دعاوی کے نتیجہ میں اپنے دل کے لئے تو تسکین کا سامان پیدا کریں۔نفس مطمئنہ نہیں۔وہ نفس، جو محض نظریوں پر اطمینان نہیں پاتا بلکہ نظریوں کو اپنے اعمال میں ڈھال کر ان کی صداقت کو پرکھ کر عملاً ایک جنت کی زندگی بسر کرنا شروع کر دیتا ہے۔یہ تبدیلی اگر آپ اپنے اندر پیدا کر لیں تو پھر آپ کے دعاوی میں ایک غیر معمولی طاقت پیدا ہو جائے گی۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ ان کو خدا چاہئے لیکن اس راہ میں ان کے لئے مشکل یہ ہے کہ جس خدا کے تصور سے، جس خدا پر ایمان لا کر انہوں نے زندگی کا سفر شروع کیا تھا، وہ خدا ایک فرسودہ خیالی خدا بن چکا ہے، ایک کہانی بن گئی ہے۔عملاً وہ یہ سمجھتے ہیں کہ خدا ان کے لئے کچھ نہیں کر سکا۔اس لئے آپ جب خدا کا تصور لے کر ان کے پاس آتے ہیں تو خواہ یہ الفاظ میں آپ سے کہیں یانہ کہیں لیکن ان کا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ ہاں ہم نے دیکھے ہیں خداؤں والے۔پہلے بھی سالہا سال صدیوں تک خدا والوں نے ہم پر حکومتیں کی ہیں اور خدا کے نام پر ہمیں ہزار قسم کے دھوکوں میں مبتلا رکھا ہے۔آج اس خدا پر ایمان لانے کے نتیجہ میں یا ان خداؤں کی پیروی کے نتیجہ میں ہم اس حال کو پہنچے ہیں کہ دنیا کی تمام ترقیات کے باوجود ہمارا قلب، قلب مطمئنہ نہ بن سکا، ہمارے دل کو سکون حاصل نہ ہوسکا۔اس لئے تم کس خدا کی بات کرنے آئے ہو۔کون سا خدا لے کر ہمارے پاس آئے ہو۔یہ وہ چیلنج ہے، جو آپ کے سامنے مد مقابل بن کر کھڑا ہے۔اور بظاہر ہماری طاقت کے مقابل پر اس چیلنج کی طاقت بہت بڑی ہے اور بہت وسیع ہے۔اور بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ پینچ ہمارے سارے رستے روک کر کھڑا ہے۔594