تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 580 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 580

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 12 جون 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم ایک احمدی کے لئے یہ کہنا بڑے ہی تعجب کے بات ہوگی کہ وہ خود نہیں آتے۔صفائی اور نظافت اور اعلیٰ رہن سہن کے جیسے اسلوب حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سکھلا گئے ، اس کی تمام خوبیوں اور حسن کو تو ابھی تک بھی یہ لوگ نہیں پہنچ سکے۔صرف اپنی تعلیم کو عمل میں ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ان کا اچھار ہن سہن دیکھ کر آپ یہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں کہ وہ جو شرف والی تعلیم لے کر آیا تھا، میں تو ایک ایسے آقا کی غلامی سے منسلک ہوں۔جس نے ہر انسانی خوبی کو بلند ترین معیار تک پہنچا دیا تھا۔اب میرے عملی نمونے سے یہ کیا سمجھیں گے۔نہ تو ان کے اندر یہ صلاحیت ہے اس وقت کہ وہ اقتصادی پس منظر کو دیکھ کر ایسے تجزئیے کریں کہ جس کے نتیجہ میں سمجھیں کہ یہ قوم مجبورتھی، ہم نے ان کو غلام بنایا، یہ غریب ہو گئے اور اس کے نتیجے میں لازماً ایسی باتیں پیدا ہوئیں۔نہ ان میں یہ قابلیت ہے کہ ماضی کی تلاش کر کے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا جائزہ لیں اور یہ سوچیں کہ یہ تو بڑے ہی بدقسمت لوگ ہیں، ہم سے بہت بہتر اصول رکھنے کے باوجود، ہم سے بہت بہتر تعلیم کے حامل ہونے کے باوجود اپنی بدعملیوں کی وجہ سے یہ اس حال کو پہنچ گئے ہیں۔ان کو صرف آپ نظر آئیں گے اور آپ کے پیچھے اسلام نظر آئے گا۔اور آپ کی ہر بات کو یہ اسلام کی طرف منسوب کر دیں گے۔کیا دیکھا نہیں آپ نے کہ خمینی کے ساتھ یہ کیا کرتے ہیں؟ کیا سنا نہیں کہ لیبیا کے قذافی کے ساتھ کیا کرتے ہیں؟ مینی کی ہر بات اسلام بن کر ان کو دکھائی دیتی ہے اور قذافی کی ہر حرکت ان کو اسلام بن کر سنائی دیتی ہے۔یہ تیار بیٹھے ہیں کہ ہر بدی کو اسلام کے منہ پر تھو ہیں، ہر ظلم کو اسلام کی طرف منسوب کریں۔آج انہوں نے Terrorism کا نام بھی اسلام رکھ لیا ہے، یہ IslamicTerrorism ہے، یہ اسلامی ظلم ہے۔حالانکہ اس سے بہت زیادہ مظالم، بہت ہی زیادہ خوفناک مظالم آئر لینڈ میں بھی ہو رہے ہیں۔لیکن اس کا نام Christian Terrorism یہ کبھی نہیں رکھیں گے۔تو جو پہلے ہی تیار بیٹھے ہوں کہ نکتہ چینی کریں، جو بہانے ڈھونڈیں کہ آپ کے نقائص آپ کے مذہب کی طرف منسوب کریں، ان کے نزدیک آپ کا کوئی قصور نہیں ہوگا، تمام قصور اسلام کا ہو گا۔کتنا بڑا گناہ کر رہے ہوں گے آپ کہ ہر خوبی اسلام کی تھی اور ہر قصور آپ کا تھا لیکن آپ نے برداشت کر لیا کہ آپ کے سارے قصور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی پاکیزہ تعلیم کی طرف منسوب کر دیئے جائیں۔ا یہی ہورہا ہے اور یہی ہوتا چلا جائے گا ، اگر اپنے اندر آپ نے ایک نمایاں پاک تبدیلی پیدا نہ کی۔پس اپنی ان خوبیوں کو دوبارہ حاصل کریں، جن کو مدتوں سے آپ کھو چکے ہیں۔ہزار سال سے لمبا عرصہ ہو گیا کہ مسلمان بد قسمتی سے تنزل کرتے ہوئے اسلام کی تعلیم سے دور بنتے چلے گئے اور نظافت۔580