تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 579 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 579

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد هفتم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 12 جون 1987ء سی ایسی خوبیاں ہیں، جن سے مشرق کی اکثر اقوام محروم ہیں۔یہاں مذاہب کی بحث نہیں ہے، یہاں تہذیبوں کی بات ہو رہی ہے۔مشرق کی تہذیب سے آنے والے لوگ بہت سی گندی عادات کا شکار ہو چکے ہیں۔وقت کا ضیاع ، جھوٹ بولنے میں جلدی کرنا، بہانے تراش کرنا، محنت سے جی چرانا اور اسی قسم کی وہ رہن سہن کی معاملات میں سہل انگاری اور گندے رہنا، کمروں میں جا کر دیکھو تو بستر بکھرے پڑے ہیں، کہیں تکیہ ہے کہیں چادر، جو چیز گر گئی، وہیں پڑی رہی۔کھانا بستر پہ بیٹھ کے کھا رہے ہیں تو داغ بھی پڑ رہے ہیں ساتھ ساتھ اور اسی قسم کی اور بہت سی ایسی عادتیں ہیں ، جس کے نتیجے میں ان کا رہن سہن بہت ہی تکلیف دہ اور بد منظر ہو جاتا ہے۔کھانا پکایا ہے تو برتن صاف ہی نہیں کئے ، یہاں تک کہ وہ جگہ جہاں برتن صاف کئے جاتے ہیں، وہ بھی کھانے کے برتنوں کی طرح رفتہ رفتہ گندی ہو جاتی ہے، بد بوئیں اٹھ رہی ہیں۔کہیں اولیاں لگ گئی ہیں۔نہایت ہی خوفناک مناظر بعض لوگوں کا رہن سہن پیش کرتے ہیں اور اسی طرح اور بہت سی عادتیں ایسی ہیں، جن کو دیکھ کر مغرب والے حیران ہوتے ہیں کہ یہ کہاں سے جانو راٹھ کے آگئے ہیں۔وہ جو Racial نفرت کہلاتی ہے، یعنی قومی نفرت ، وہ خالصہ قومی نفرت بھی نہیں۔وہ در اصل عادات کا بعد ہے، جس کے نتیجے میں ایک مغائرت پیدا ہو جاتی ہے، ایک قسم کی دوری پیدا ہو جاتی ہے۔وہ اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ کہاں سے آئے؟ کیسے انہوں نے رہن سہن سیکھا ؟ کس طرح یہ لوگ زندگی بسر کرتے ہیں؟ کوئی ان کو بتانے والا نہیں کہ انسانیت کے تقاضے یہ ہیں یادہ ہیں۔پھر ایسے اوقات میں شور کرنا ، جب کے دوسروں کے آرام کا وقت ہو ، گلیوں اور بازاروں میں تھوکنا، ٹوائلٹ میں جانا تو ٹوائلٹ کی صفائی کے تقاضے پورے نہ کرنا، جہاں کھانا کھایا، وہاں ہڈیاں اچھال دینا چاروں طرف جنگل سمجھ کے کہ یہاں کیا فرق پڑتا ہے۔یا روٹی کے ٹکڑے پھینک دینا۔غرضیکہ بہت سی ایسی عادات ہیں، جو بالعموم مشرق سے آنے والے اقتصادی لحاظ سے پسماندہ لوگوں میں اپنی اقتصادی پسماندگی کے نتیجے میں ایک لمبے عرصے میں راسخ ہو چکی ہیں۔اس قوم کو آپ یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ صدیوں تم نے مشرق کا خون چوسا، صدیوں تم نے مشرق پر حکومت کی اور دولت کے ساتھ رہنے کے جو اوصاف ہیں، وہ بھی حاصل کر لئے۔اب کس بات کا شکوہ کرتے ہو، ہم سے۔آپ یہ کہہ کر تو ان کے منہ بند نہیں کراسکتے۔گندگی ، بہر حال گندگی ہے۔بری عادتیں، بہر حال بری عادتیں ہیں۔اس لئے یہ کہہ کر نہ آپ خود مطمئن ہو سکتے ہیں، نہ ان کو مطمئن کر سکتے ہیں۔اس کا تو ایک ہی علاج ہے کہ ان سے وہ صفائی کے سارے رہن سہن سیکھ لیں، اگر آپ کو خود نہیں آتے۔لیکن۔579