تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 574 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 574

پیغام فرمودہ 25 مئی 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہفتم اموال ہی نہیں ترکیہ اعمال بھی کرتی ہے۔قرآن کریم کا یہ وعدہ اللہ کے فضل سے بڑی شان کے ساتھ تمام مالی قربانی کرنے والوں کے حق میں پورا ہو رہا ہے۔لیکن کچھ قابل فکر پہلو ہیں۔وہ بھی آپ کے سامنے آتے رہنے چاہئیں۔ورنہ خوش فہمیوں میں مبتلا ر ہیں گے اور کمزوریاں دور کرنے کی طرف توجہ نہیں ہوگی۔ابھی تک میرے اندازے کے مطابق جماعت امریکہ کی اکثریت ایسی ہے، جو مالی قربانی کے اونی تقاضوں پر بھی پورا نہیں اترتی۔با شرح چندہ، مالی قربانی کی طرف پہلا قدم ہے، جس کے بعد قربانی کا آئندہ سفر شروع ہو جاتا ہے۔ابھی تک اکثریت کے متعلق اطمینان سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ تقویٰ کے ساتھ مالی قربانی کا یہ پہلا قدم اٹھا چکے ہیں۔ظاہر ہے کہ جو شخص مشکلات میں تنگی محسوس کرتے ہوئے محض اللہ کی خاطر اپنے عزیز مال سے جدا ہوتا ہے، اس کو صرف اعمال ہی میں برکت نہیں ملتی بلکہ اس سے بڑھ کر رضائے باری تعالیٰ حاصل ہوتی ہے۔اور جسے اللہ کی رضا حاصل ہو جائے، اس نے سب کچھ پالیا۔پس ایک کثیر حصہ کا اس سے محروم رہ جانا، کوئی معمولی نقصان نہیں ہے۔پتہ نہیں لوگ کیوں خدا کو خدا کے دیئے ہوئے رزق میں سے کچھ واپس کرنے سے ڈرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کے گزارے نہیں چلیں گے۔خدا پر یہ بدظنی ان کو دنیا اور دین میں ہر لحاظ سے مہنگی پڑتی ہے لیکن وہ نہیں سمجھتے۔پس ایک پہلو تو یہ ہے، جو فکر کے لائق ہے۔بار بار نصیحت کے ذریعہ ایک دوسرے کو سمجھائیں، بار بار یادہانی کروائیں۔گزشتہ خطبوں میں اس موضوع پہ اقتباسات نکال کر انہیں امریکن انگریزی میں ریکارڈ کروا کر اور Edit کر کے اس طرح پیش کیا جاسکتا ہے کہ نئے امریکن اور پرانے امریکن بھی اس سے بھر پور استفادہ کرسکیں۔دوسرا پہلونئی نسلوں کی تربیت کا اور ان کو زہریلی فضا سے بچانے کا ہے۔افسوس ہے کہ اس میں بھی ابھی بہت خلا موجود ہے۔جدید طرز کا، اعلیٰ معیار کا تربیتی لٹریچر بچوں کے لئے پیدا کرنا، نوجوانوں کو خدام الاحمدیہ اور دیگر ذرائع سے منظم کر کے خدمت دین کی دلچسپیاں ان میں پیدا کرنے کے ذرائع اختیار کرنا، ہر ایک کے سپرد کچھ نہ کچھ ایسی ذمہ داری کر دینا ، جس سے اس کو محسوس ہو کہ اس کا وقت اب پہلے سے زیادہ مفید کاموں میں خرچ ہو رہا ہے تا یہ احساس اس کی زندگی کو بامقصد اور معنی خیز بنادے، یہ امور اور دیگر بہت سے تربیتی امور ایسے ہیں، جو ایک دو نصیحتوں سے حل ہونے والے نہیں۔روحانی بیماریاں بھی دنیاوی بیماریوں کی طرح زندگی کا روگ ہوتی ہیں۔باشعور اور باہمت قومیں مسلسل بیماریوں کے خلاف جدو جہد کرتی ہیں اور بے وقوف اور سہل انگار تو میں تھوڑی تھوڑی کوششوں کے بعد پھر غافل ہو جاتی ہیں۔یہاں تک کہ بیماریاں ان پر 574