تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 565 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 565

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 10 اپریل 1987ء ہوا۔ملاقات کے دوران یہ نظر آیا کہ انہوں نے جماعت کے متعلق دوسروں سے باتیں سنی ہوئی تھیں۔جماعت کے متعلق کوئی علم نہیں اور ان کا رویہ بھی درمیانہ ساتھا کیونکہ شریف انسان تعلیم یافتہ اس لئے وہ بغض کا اظہار تو بہر حال نہیں کر رہے تھے لیکن ایک خشک کا سا تعلق ، جس طرح ہوتا ہے، کوئی قلبی تعلق نہ ہو، کوئی دلچسپی نہ ہو۔لیکن رفتہ رفتہ پھر باتیں شروع ہوئیں، تفصیل سے سارے مسائل ان کے سامنے میں نے بیان کئے۔جماعت کیا ہے؟ کیا کر رہی ہے؟ اور امام مہدی کا ذکر کیا۔دعویٰ کیا ہے؟ دوسرے مسلمان کیوں مخالف ہیں؟ اور انہوں نے اشارہ براہ راست کہہ کے تو نہیں اشارہ اس طرح کیا کہ دلیل بھی ہوئی چاہئے۔تو میں نے پھر ان کو ایک دو دلائل دیئے ان کو اور اس دوران ان کی شکل تبدیل ہونی شروع ہوئی یعنی محبت کے آثار پیدا ہونے شروع ہوئے واضح اور دیکھتے دیکھتے یوں لگا کہ جس طرح دل پگھل جاتا ہے۔ایک آدمی کا اور وہ بڑے کم گو ہیں۔دو باتیں انہوں نے کہیں۔ایک یہ کہی کہ میں اپنی یہ خوش نصیبی سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے یہاں آنے کا موقع دیا۔کیونکہ کانوں سے سنی ہوئی باتیں بسا اوقات جھوٹی نکلتی ہیں۔جب تک آنکھیں نہ دیکھ لیں، اس وقت تک انسان کو صحیح پتا نہیں لگ سکتا۔اور آج مجھے خدا نے یہ موقع دے دیا کہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں اور خود پتا کرلوں کہ آپ کیا لوگ ہیں؟ دوسرا ایک بڑا معنی خیز فقرہ انہوں نے کہا۔جس سے مجھے بہت ہی امید پیدا ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک لمبے عرصے سے میں اسلام کا تاریخی مطالعہ کر رہا تھا۔آنحضرت کے زمانے سے لے کر اب تک کا اور میں نے ہر طرف نظر دوڑائی اور خوب چھان پھٹک کی ، سب تلاش کی۔لیکن جس چیز کی مجھے تلاش تھی، مجھے ملی نہیں۔آج مجھے وہ مل گئی ہے۔اس سے بیعت تو انہوں نے نہیں کی۔لیکن اتنا حیرت انگیز فقرہ تھا ایک کم گو، اتنے بڑے عالم اور اتنے بڑے لیڈر کے منہ سے نکلا ہوا، اتنا معنی خیز ہے کہ اس وقت مجھے یہ معلوم ہو کہ یہی وہ خوشخبری تھی، جو پیر کے دن خدا نے میرے دل میں ڈالا کہ Friday The 10th صرف جلال نہیں لے کے آئے گا بلکہ جمال لے کے بھی آئے گا اور احمدیت کی ترقی کے لئے انشاء اللہ نئے نئے دروازے کھولے گا۔اور جماعت کو میں ان خوشخبریوں میں اس لئے ساتھ شامل کر رہا ہوں کہ تکلیف دہ خبریں آپ سنتے رہے ہیں، اس سے دل دعاؤں کی طرف مائل ہوتا ہے لیکن طمع کے ساتھ بھی تو دل دعاؤں کی طرف مائل ہوتا ہے۔حمد اور شکر سے دل بھرتا ہے۔اور اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے شعر کی مصداق ہیں: ہیں تری پیاری نگاہیں دلبرا اک تیغ تیز جن سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑا غم اغیار کا ( در شین : 10) 565