تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 552
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 20 مارچ 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ہفتم گے بلکہ مٹ جائیں گے۔اور ایک ایسی قوم وجود میں آئے گی جیسی قوم دنیا نے پہلے نہ دیکھی ہوگی اور حیرت سے یہ ماجرہ دیکھیں گے کہ انہیں لوگوں میں سے خواہ وہ افریقہ کہ بسنے والے ہوں یا ایشیاء کے یا یورپ کے یا امریکہ کے کسی بھی خطۂ ارض سے تعلق رکھتے ہوں، ان سب سے نکل نکل کر کچھ لوگ اسلام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ایک جھنڈے کے تلے جمع ہوتے چلے جارہے ہیں۔اور سب میں ایک نئی قومیت ابھر رہی ہے، نئی قومیت وجود پا رہی ہے، نئی قومیت نشو و نما دکھا رہی ہے۔یہاں تک کے ان کے رنگ ڈھنگ بالکل ایک جیسے ہو گئے ہیں۔یہ چیز جماعت احمدیہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان کے ساتھ کسی حد تک دکھائی دینے لگی ہے۔اور وہ لوگ جن کو جماعت کے پس منظر کا کچھ علم نہیں، جماعت کے فلسفہ کا کچھ علم نہیں ، وہ بھی محسوس کرتے ہیں۔بنا نچہ گزشتہ جلسہ سالانہ کے بعد جو امیگریشن کے افسروں کی طرف سے تبصرے موصول ہوئے، اس میں سب سے زیادہ اہمیت والا تبصرہ یہ تھا کہ عجیب سے لوگ ہیں احمدی کہ دنیا کے جس کونے سے بھی آئے ہیں، ایک ہی قسم کے لوگ ہیں اور ہم ان کو پہچان جاتے تھے۔وہ ایک قسم کیا ہے؟ یہ کسی کو مجھ نہیں آئی۔کیسے ایک قوم بن سکتی ہے۔افریقہ سے آنے والے لوگوں کی اور پاکستان سے آنے والوں کی اور چین سے آنے والوں کی اور امریکہ سے اور جاپان سے غرضیکہ مختلف ممالک سے آنے والوں کی؟ وہ کیا چیز ہے، جس نے ایک قوم بنادیا ؟ اور ایک غیر نظر سے دیکھنے والے کو بھی محسوس ہوا کہ ان میں قدرے مشترک ہے۔وہ یہ بات تو نہیں پہچان سکتا تھا۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ تقویٰ ہی وہ قدرے مشترک ہے، جو جماعت احمدیہ کو ایک قوم کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کر رہی ہے۔لیکن اس کی طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔بہت ہی ابھی خلا ہیں۔اور ابھی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ تقویٰ کا رنگ ہماری ہر ادا پہ غالب آ گیا ہے۔جب یہ رنگ کسی جماعت پہ غالب آجائے تو اس جماعت کا دنیا پر غالب آنا، ایک لازمی امر ہو جاتا ہے۔اس کا ایک طبعی نتیجہ ہے۔یہ واقعہ رونما کر لیں آپ کہ جماعت احمدیہ کی ہر ادا پر تقویٰ غالب آجائے تو آسمان اور زمین گواہ ہو جائیں گے اس بات پر کہ آپ لازما ساری دنیا پر غالب آئیں گے۔کوئی دنیا کی طاقت آپ کو روک نہیں سکتی۔اور یہ غلبہ ہے، جو حقیقی غلبہ ہے۔یہ غلبہ ہے، جو معنی رکھتا ہے۔یہ وہ غلبہ ہے، جو دنیا کی بھلائی اور اس کی بہبود کے لئے ضروری ہے۔اس لئے تقویٰ کے متعلق میں نے سوچا کہ مزید مختلف پہلوؤں سے اس پر وقتا فوقتار وشنی ڈالتا ہوں“۔مطبوعہ خطبات طاہر جلد 6 صفحہ 192,193 552