تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 551
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد مصف اقتباس از خطبه جمعه فرموده 20 مارچ 1987ء عالمی اسلامی برادری کے قیام کے لئے قدرے مشترک چیز تقویٰ ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 20 مارچ 1987ء گزشتہ خطبہ میں، میں نے بھی تقوی کی طرف توجہ دلائی تھی۔پھر مجھے خیال آیا کہ جماعت احمدیہ میں مختلف قوموں سے شامل ہونے والے لوگ ہیں، جن کے پس منظر میں تقویٰ کی وہ تعریف نہیں ہے، جو ہم لوگوں نے بچپن سے سنی۔نہ وہ تعلیمی پس منظر ہے ان کا ، جس سے ان کو تقویٰ کے معنی کی زیادہ گہرائی سے سمجھ آسکے۔اور جماعت احمد یہ چونکہ ایک پھیلنے والی جماعت ہے اور ہر روز آگے بڑھ رہی ہے اور ہر سمت وسعت پذیر ہے۔اس لئے دن بدن نئی نئی قوموں سے، نئے نئے مذاہب سے لوگ احمدیت میں داخل ہوتے چلے جارہے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان کے ساتھ موجودہ دور میں اب ہمارے لئے یہ آسان ہو گیا کہ کیسٹس کے ذریعے ان تک اپنی آواز ایک ہفتے کے اندر اندر پہنچا دیں۔خواہ وہ دنیا میں کہیں بھی موجود ہوں۔اس لئے اب خطبات کو یہ اہمیت حاصل ہو گئی ہے کہ جو ایک عالمی بھائی چارہ اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے، جسے قرآن کریم اخوۃ کا نام دیتا ہے، مومنین جو ہیں، وہ اخوۃ ہیں۔ایک بھائی کی طرح ہیں یا بھائیوں کی طرح ہیں۔اس مضمون پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے بھی بہت توجہ فرمائی اور خصوصیت کے ساتھ اس وحدت ملی کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ نے اس بات پر زور دیا کہ آئندہ جو ہمارا جشن منایا جائے گا، اس میں اس بات کی طرف خصوصیت سے توجہ دی جائے کہ ایک عالمی اسلامی برادری وجود میں آئے، جس کے نقش و نگار با ہم ایک دوسرے سے اس طرح ملتے ہوں کہ ہر دیکھنے والے کو ایک ہی قوم دکھائی دے۔اور یہ تبھی ممکن ہے کہ سب میں تقویٰ قدرے مشترک بن جائے۔کیونکہ تقویٰ کے سوا کچھ اور چیز بھی اگر آپ قدرے مشترک کے طور پر اختیار کرنا چاہیں گے تو اس سے کوئی اور عالمی برادری تو وجود میں آجائے گی۔لیکن مسلم عالمی برادری اس سے وجود میں نہیں آئے گی۔ایک ہی چیز ہے، جو قدرے مشترک ہے، ہر مومن کے درمیان، ہر مسلم کے درمیان اور وہ تقویٰ ہے۔اور اگر تقویٰ رنگ پکڑ جائے اور تقویٰ کا رنگ انسانی زندگی کے ہر پہلو پر غالب آجائے تو ہر دیکھنے والا ایسے متقیوں کو اپنے سے ایک الگ قوم کے طور پر دیکھے گا۔اور جو دوسرے رنگ ونسل کے امتیاز ہیں، وہ تقویٰ کے غلبہ کے نیچے بالکل دب کے ملتے چلے جائیں 551