تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 535 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 535

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 06 فروری 1987ء وہ اور زیادہ کام کو منظم کرتے ہیں۔لیکن بعض ممالک ہیں، جن میں ابھی تک غفلت ہے یا کام کا سلیقہ نہیں ہے۔وقف عارضی کو استعمال کرتے ہیں لیکن اس طریق پر نہیں کہ کسی ایک جگہ بار بار بات دہرائی جائے۔یہاں تک کہ وہ اثر کرنے لگ جائے۔بلکہ وقف عارضی اس طرح ہوتا ہے، جیسے کبھی ایک جگہ کوئی انسان گندم کا چھٹہ ڈال جائے، کبھی کسی دوسری جگہ چلا جائے، کبھی کسی تیسری جگہ چلا جائے اور پانی دینے لگے تو پانی دوسری زمینوں کو دینے لگے۔ایک دانہ بھی نہیں اگے گا اس طرح تو۔اگے گا تو ضائع ہو جائے گا۔وقف عارضی سے بھی اگر فائدہ اٹھانا ہے ان ملکوں کو تو منظم طریقے پر اٹھانا چاہئے۔جہاں پہلا وفد گیا ہے، جو تعلقات اس نے قائم کئے ہیں، انہیں تعلقات کا اعادہ جب تک نہیں کرتا اگلا وفد اور انہی جگہوں پر جا کہ محنت نہیں کرتا ، اس وقت تک یہ توقع رکھنا کہ ہم بڑا کام کر رہے ہیں اور اس کا پھل بھی ملے گا۔قسمت سے، قدرت سے تو پھل مل جائے تو الگ بات ہے، اس سے تو انکار ہی نہیں ہے اور خدا دیتا رہتا ہے، ایسے پھل مگر با قاعدہ منصوبہ بندی کے طریق پر پھل حاصل کرنے کا اسلوب نہیں ہے، جو خدا نے ہمیں سکھایا ہو۔اس کے لئے تو حکمت اور عقل کے ساتھ باقاعدہ ایسی محنت کو دہرانا پڑے گا، جو بار بار دہرانے کے بعد پھل دیتی ہے۔اور اسی طریقے اور منصوبے سے دہرانا پڑے گا۔ہر کام کے اپنے اسلوب ہیں، اپنے طریق ہیں، ان کو اختیار کئے بغیر ہماری بہت سی محنتیں بالکل ضائع چلی جاتی ہیں، ان کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔اس لئے اپنے منصوبوں پر نظر ڈالیں۔سارے ممالک، جنہوں نے بعض نئے ممالک میں خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ اسلام کا پودا لگانا تھا، وہ سوچیں کہ کیوں نہیں لگا سکے۔غفلتیں تھیں تو غفلتیں دور کریں۔اگر منصوبے میں کمزوریاں تھیں تو ان کو ٹھیک کریں۔اور دعاؤں میں کمی تھی تو دعائیں کریں۔بہر حال یہ ان کا اپنا کام ہے کہ اپنے گرد و پیش کا گردوپیش جائزہ لے کر از سر نو بلند عزم کے ساتھ یہ کام شروع کر دیں۔سب سے بڑا خلا ، جواب تک محسوس ہوا ہے ، وہ جنوبی امریکہ کے براعظم میں محسوس ہوا ہے۔حیرت کی بات ہے کہ باوجود اس کے کہ باہر سے جانے والے احمدی تو وہاں آباد ہوئے ہیں، مختلف ممالک میں مثلاً ہنگری میں جب انقلاب آیا تو ہنگری کے انقلاب سے پہلے خدا تعالیٰ کے فضل سے وہاں جماعت کثرت سے پھیلنا شروع ہوئی تھی ، یعنی خصوصا مسلمانوں میں۔وہ لوگ جو ہجرت کر گئے جنوبی امریکہ میں ان کے کہیں کہیں سے خط آتے رہے، کہیں کہیں سے ان کی اطلاعیں ملتی رہیں، جو آہستہ آہستہ کم ہونے لگیں۔اور ایک لمبے عرصے میں وہ تعلق بھی ٹوٹ گیا۔سوائے اتفاقاً کبھی کوئی آواز دوبارہ آجاتی ہے۔اس سے یہ تو پتہ چلتا ہے کہ آج سے چالیس، پچاس سال پہلے سے ہی وہاں جنوبی امریکہ کے مختلف ملکوں میں دانہ دانہ کہیں کہیں احمدیت پہنچی ہے۔لیکن پھر اس نے نشو نما پائی یا نہیں 535