تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 530
تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقتباس از خطبه جمعه فرموده 06 فروری 1987ء دوسرا ایک پہلو جیسا کہ میں نے بیان کیا، اس میں مختلف طاقتوں کی ضرورت ہے، مختلف صلاحیتوں کی ضرورت ہے۔اور دوستوں کو اپنے کوائف مکمل طور پر جو شوق رکھتے ہیں کہ ان کو بھر پور حصہ ملنے کا موقع ملے، ان کو چاہئے کہ اپنے کوائف مکمل اس طرح بھیجیں، جس طرح نوکریوں کے لئے بھیجا کرتے ہیں۔اور کمیٹیوں کے سپر دیا امیر کے سپرد کریں کہ یہ یہ ہم کر سکتے ہیں اور اس طرف ہمارا ذہن کا بھی رجحان ہے اور اس قسم کا وقت ہم آسانی سے دے سکیں گے۔اور کتنا زیادہ سے زیادہ دے سکیں گے، اس کی بھی تعیین کی جائے۔یعنی کس قسم کے وقت سے مراد یہ ہے کہ رات کا وقت صبح کا وقت، دن کا وقت، ہمہ وقت ، جس نوعیت کی بھی کسی کو توفیق ہو، وہ واضح کرے اور پھر مدت معین کر دے۔تو اس طرح ہمارے پاس مجموعی طور پر کام کرنے والے جتنے ہاتھ اور جتنے گھنٹے اور جتنے دماغ اور جتنی صلاحیتیں ہوں گی، وہ یکجائی شکل میں جب کمیٹی کو نظر آئیں گی تو ان کا منصوبہ حقیقی بنے گا پھر اور ان صلاحیتوں کے نتیجے میں ان کے ذہن اور ان کی سوچ میں بھی ایک چمک پیدا ہوگی۔بعض چیزوں کی طرف خیال ہی نہیں جائے گا جب ایک لکھنے والا بتائے گا کہ مجھ میں خدا کے فضل سے یہ صلاحیتیں موجود ہیں تو اچانک اس کے منتظموں کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ اچھا یہ بھی ایک چیز تھی، اس سے بھی فائدہ اٹھانا چاہئے۔تو Grass Roots جس کو کہتے ہیں یعنی وہ گھاس کی جڑیں، وہاں سے منصوبہ اٹھے تو عظیم الشان منصوبہ ہوتا ہے۔وہ سر کی طرف حرکت کرتا ہے اور پھر سرے صیقل ہو کر اور مزید نقش ونگار کی درستی کے بعد واپس پہنچتا ہے۔اور پھر ہر ہر جگہ، جہاں جہاں اس ربے کو عمل میں لانا ہے ، وہاں کے اعضاء اس میں کام شروع کر دیتے ہیں۔منصور جہاں تک تبلیغ کا تعلق ہے، میں نے یہ کہا تھا کہ ہر احمدی کو کم سے کم اب دو سال کے لئے دو احمدی تو پیش کرنے چاہئیں۔گزشتہ محرومیوں کا اب ماضی میں جا کہ تو ازالہ نہیں ہوسکتا لیکن مستقبل کی طرف بڑھتے بڑھتے تو ازالہ ہو سکتا ہے، بہت حد تک تو دو کو تو آپ کم سے کم معیار سمجھیں۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح پہلے ہم مالی تحریکوں میں چند آنوں سے شروع کر کے پھر بڑھاتے رہے یعنی خدا تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق اور کیا وہ وقت تھا کہ دو دو پیے کا ریکارڈ بھی کتابوں میں چھپ گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مبارک ہاتھوں سے کہ یہ دو پیسے چندہ دیا ہے کسی نے۔یہ درست ہے کہ وہ دو پیسے کروڑوں سے بڑھ کر مقدس تھے۔کروڑوں سے بڑھ کر خدا کے ہاں زیادہ مقبولیت پاگئے۔کیونکہ وقت کے امام کی نظر میں آگئے اور اللہ کی تقدیر نے ان سے لکھوادیا کہ فلاں شخص نے یہ اتنے پیسے دیئے ہیں۔لیکن اس کے بعد خدا کا فضل ایک دوسرے رنگ میں بھی نازل ہوا۔دو پیسے، دو پیسے نہیں رہے بلکہ اسی اخلاص 530