تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 531 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 531

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ہفتم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 06 فروری 1987ء کے معیار کے لوگوں کو خدا نے مالی وسعتیں عطا کیں۔اور عملاً یہی بات ہے، جو ہمیشہ ہمارے پیش نظر رہنی چاہئے کہ یہ وہی دو پیسے ہیں، جو بڑھ رہے ہیں، یہ وہی چار آنے ہیں، جو بڑھ رہے ہیں، یہ وہی چند روپے ہیں، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اخلاص اور محبت سے پیش کئے گئے، جو برکت پارہے ہیں۔آج ہمارے ہاتھوں سے جب یہ نکلتے ہیں تو ہزاروں لاکھوں بعض دفعہ کروڑوں بن کر نکلتے ہیں تو خدا کے فضل نے پیمانے مختلف کر دیئے مگر سر چشمہ وہی ہے۔وہی خلوص اور تقویٰ کا سر چشمہ، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں اور محنتوں کے نتیجے میں پیدا ہوا۔پس اسی نہج پر ہمیں اب تبلیغ میں بھی چندوں کا رنگ پیدا کر دینا چاہئے۔پہلے اتفاق سے مربیوں اور مبلغوں کے علاوہ جب کبھی کوئی داعی الی اللہ اپنا تبلیغ کا پھل پیش کیا کرتا تھا تو بہت نمایاں دکھائی دیتا تھا۔میں تھیں، چالیس چالیس ایسے دوست شروع میں پیدا ہونے شروع ہوئے۔جب ہم نے انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ میں منتیں کیں اس معاملے میں اور بہت تھوڑے نتیجے تھے لیکن اس کے باوجود بہت دکھائی دیتے تھے۔اب ایک ایسا وقت آیا ہے کہ بعض داعین الی اللہ کے ذریعے بیسیوں کی تعداد میں ایک ایک آدمی کے ذریعے بیعتیں ہورہی ہیں، نئے گاؤں بن رہے ہیں۔افریقہ سے جور پورٹیں ملتی ہیں، ان سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اب داعین الی اللہ کی کوششوں کا زیادہ دخل ہو گیا ہے۔بنسبت براہ راست مبلغین کی کوششوں کے اور اسی طرح ہونا بھی چاہئے۔مبلغ کا کام تو بالعموم تعلیم و تربیت اور تبلیغ کے معاملے میں جماعت کو مستعد کرنا ہے۔براہ راست جتنا وقت ملے، وہ بے شک تبلیغ کرے۔لیکن مبلغ تیار کرنا، اس کا کام ہے۔اور اگر وہ یہ سمجھے کہ میں نے اگر اپنے نام ڈالے دس یا نہیں آدمی تو میر اوقار بڑھے گا اور اگر میں نے یہ لکھ دیا کہ دوسروں نے بنائے ہیں تو شاید میر اوقار کم ہو۔اگر کوئی ایسا سوچتا ہے تو بہت ہی بے وقوف انسان ہے۔مبلغ تو سب اجتماعی کوششوں کے پھل کا ذمہ دار ہے اور اس کا ثواب اس کو ملے گا اور مرکز کی نظر میں بھی وہ مبلغ زیادہ کامیاب ہے، جس کے ماتحت عام احباب جماعت زیادہ مستعدی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے فضل اور رحم سے اس کی توفیق کے ساتھ زیادہ کامیاب تبلیغ کر رہے ہیں۔اس لئے کریڈٹ کا جہاں تک تعلق ہے، وہ سارا مبلغ ہی کا یا مبلغوں کا ہی ہے۔یعنی سارے سے مراد میری یہ ہے کہ اگر ان کو یہ فکر ہو کہ ہمارا کریڈٹ کم ہو جائے گا تو اس فکر کو مٹادیں دماغ سے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قانون ہمیں بتایا ہے اور جو خدا نے آپ کو بتایا، وہ تو بالکل دنیا کے قانون سے مختلف ہے۔دنیا میں تو اگر ایک سے کریڈٹ لے کے دوسرے کو دے دیا جائے تو پہلے کی 531