تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 529 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 529

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 06 فروری 1987ء اس کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے کام ہیں، جو فوری طور پر جاری ہونے والے ہیں۔مثلاً تمام دنیا میں اس جشن کے لئے بعض نئی تعمیرات کی ضرورت پیش آئے گی۔اس کے متعلق ہمیں کیا کیا ضرورتیں ہیں؟ یہ تقریبا طے کر لی گئیں ہیں اور نقشہ بنانے کے لئے بعض آرکیٹیکٹ سے کہا گیا ہے کہ ان عمومی ضروریات کو مد نظر رکھ کر نقشہ بنائیں۔ضروری نہیں کہ ہر ملک میں ایک ہی معیار کی عمارت ہو۔مگر نقشہ کم و بیش وہی ہو گا۔کیونکہ بعض نمائشوں کے لئے ، بعض کتابوں کو سجانے کے لئے ، بعض دوسرے کاموں کے لئے خاص قسم کے کمروں کی ، خاص شکل کے کمروں کی ضرورت پیش آتی ہے۔تو وہ عمومی نقشہ بھی تمام دنیا میں عنقریب بھجوا دیا جائے گا۔جہاں تک ممکن ہو ، مقامی ذرائع سے ان عمارتوں کو بنانے کی کوشش کرنی چاہئے اور وقار عمل کا اس میں بہت دخل ہونا چاہئے۔اور ایسا انتظام ہونا چاہئے کہ جماعت کا ہر طبقہ اس وقار عمل میں کسی نہ کسی طرح شامل ہو جائے۔اور بوڑھے بھی، بچے بھی ، عورتیں ، مرد سب کو خدا تعالیٰ کے سے توفیق ملے کہ اس مرکزی نمائندہ عمارت میں ہم نے اپنی محنت کا بھی کچھ حصہ ڈال دیا ہے۔جہاں تک ضروریات کی مقامی توفیق کا تعلق ہے، ہر ملک اپنی توفیق کو دیکھ کر عمارت کا معیار بنائے۔اگر کہیں شاندار عمارت نہیں بنائی جاسکتی تو بانسوں کی تعمیر بھی ہو سکتی ہے۔گھاس پھوس کے ساتھ اس کی خلاؤں کو بند کیا جا سکتا ہے، مٹی کی چھتیں بنائی جاسکتی ہیں، ان کو لیپا پوتا جا سکتا ہے۔تو یہ تصورنہ باندھ لیں کہ یہ عمارت کوئی غیر معمولی قیمتی عمارت ہو، عمارت ضرورت کو پورا کرنے والی ہونی چاہئے اور توفیق کے مطابق ہونی چاہئے۔اس کے بعد اس کو جس حد تک بھی ممکن ہو ، اگر انسان کا ذہن حسین تخیل رکھتا ہو تو غربت میں بھی وہ حسن پیدا کر لیتا ہے۔بہت سے ممالک ہیں، ایک ہی معیار کے ہیں اقتصادی لحاظ سے مگر بعض ممالک کے لوگ حسین تخیل رکھتے ہیں ، وہ انہیں ذرائع سے ایک خوبصورت چیز پیش کرتے ہیں اور بعض ممالک ان سے بڑھ کر ذرائع رکھنے کے باوجود نہایت بھرے منظر کی عمارتیں بناتے ہیں، نہایت ان کا رہن سہن بھدا ہے اور ان میں ایسا تخیل ہی نہیں کہ جو ان کے عمل کو خوبصورت کر کے دکھائے۔تو جماعت احمدیہ کا تخیل بھی حسین ہونا چاہئے۔غربت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ غربت کے نتیجے میں بدزیبی پیدا ہو، بھدی چیز بنائی جائے۔اس لئے ان دونوں شرطوں کو ملحوظ رکھ کے عمارتیں بننی چاہئیں کہ غربت میں حسن پیدا کریں۔حضرت خلیفة المسیح الثالث نے بعض جو نئے محاورے ایجاد کئے ، ان میں ایک یہ بھی بڑا خوبصورت محاورہ تھا کہ ربوہ کو ایک غریب دلہن کی طرح سجاؤ۔دلہن تو بہر حال بجتی ہے چاہے غریب ہو، چاہے امیر ہو۔اس لئے سجاوٹ آپ نے بہر حال کرنی ہے۔مگر غریب ہیں تو غریب دلہن کی طرح سجیں اور امیر ہیں تو امیر دلہن کی طرح سجیں اور سجائیں۔529