تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 528
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 06 فروری 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم کرنے کے لئے قائم کی گئی ہے۔وہ بھی گزشتہ سال سے بڑے انہماک سے کام کر رہی ہے۔تو اب ضرورت یہ ہے کہ احباب جماعت اپنی اپنی صلاحیتیں اور اپنی قابلیتیں اپنے اپنے امراء کی وساطت سے ان کمیٹیوں کو پیش کریں۔کیونکہ ہر علم کے، ہر شعبہ زندگی کے ماہرین کی شدید ضرورت ہے۔مردوں کی بھی ضرورت ہے، خواتین کی بھی ، بوڑھوں کی بھی، بچوں تک کی بھی ضرورت ہے کہ وہ اپنے اپنے رنگ میں، اپنے اپنے دائرہ کار میں اس صد سالہ جشن کو کامیاب بنانے کے لئے کیا محنت کریں گے؟ کیا خدمات سرانجام دیں گے؟ اس کی وہ وضاحت کریں گے تو کمیٹیوں کی بھی راہنمائی ہوگی۔منصوبے کے متعلق ایک تو مرکزی منصوبہ ہے، جو ساری دنیا کی راہنمائی کے لئے مکمل ہو چکا ہے۔کئی حصے اس کے تنفیذ کے عمل میں ہیں یعنی ان پر عمل درآمد ہورہا ہے یا کچھ حصہ پر ہو چکا ہے۔کچھ علاقائی کمیٹیاں اس وقت ان منصوبوں کی روشنی میں خود غور کر رہی ہیں۔لیکن ہر ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہو کر اپنا مقامی منصوبہ بھی بنانا چاہئے۔اور اس کے لئے یہ انتظار نہیں کرنا چاہئے کہ مرکز کی طرف سے کب ہدایات آتی ہیں؟ کب ان کی طرف سے بنا بنایا منصوبہ ملتا ہے؟ کیونکہ ہر ملک کی اپنی ضروریات ہیں، ہر ملک کے اپنے مسائل ہیں، ہر ملک کی جماعت کی قوت مختلف ہے، ہر ملک میں جماعت کے تعلقات حکومت والوں سے مختلف ہیں۔مخالفتوں کا مقام بھی مختلف ہے۔درجہ بدرجہ کہیں زیادہ مخالفت کہیں کم۔ہر ملک میں انسانی آزادی کا معیار مختلف ہے۔غرضیکہ اتنے اختلاف کی باتیں موجود ہیں کہ ایک مرکزی منصوبہ ہر ملک میں سو فیصدی چسپاں ہو ہی نہیں سکتا۔شکلیں الگ الگ ہوں تو ہر دوسرے کی مختلف شکل کی چیز کا بسا اوقات ایک دوسری شکل کی چیز میں فٹ بیٹھنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے۔اور پھر یہ کہ جو منصوبہ بنیاد سے اٹھے، وہ بہت زیادہ حقیقی ہوتا ہے۔جو باہر سے آتا ہے، اس میں کچھ نظریاتی باتیں، کچھ غیر حقیقی سوچیں شامل ہو جاتی ہیں۔اس لئے میں نے مرکزی کمیٹی کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ بنیاد سے منصوبے اٹھوا کر اپنی طرف ان کو حرکت دیں اور منگوانے شروع کریں۔اور ان کی روشنی میں کچھ ان کو عمومی عالمی منصوبوں میں بھی بہتر نقوش کا اضافہ کرنے کی توفیق ملے گی۔اور جو عالمی منصوبہ مقامات تک پہنچے گا، ملکوں تک پہنچے گا، اس کی روشنی میں وہ اپنی خامیاں دور کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔اس لئے اب تمام ملک اپنے اپنے ہاں فوری طور پر اپنی طاقتوں اور ملکی حالات جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، ان کا اندازہ لگا کر یہ سوچنا شروع کریں کہ وہ کس طرح یہ جشن منائیں گے۔اور اس کے خدو خال کو معین کر کے امیر کی وساطت سے اپنی علاقائی کمیٹی کو بھجوائیں اور علاقائی کمیٹیاں اس کو نظر ثانی کرنے کے بعد پھر وہ مرکزی کمیٹیوں کی طرف بھجوائیں۔528