تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 504
خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جنوری 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد مفتم چند دن کے بعد اللہ تعالیٰ نے سمجھا دیا کہ یہ فرق کیوں پڑا۔کیونکہ اس کے بعد چند دن کے بعد وکلاء کی طرف سے چٹھی ملی کہ ہماری ہیں ہزار فیس دینی نہ بھولیں۔پانچ ہزار پہلے ادا ہوئی تھی ، پندرہ ہزار بعد میں، اس کے لگ بھگ رقم جو فیس اور واجب الادا چندہ ملا کر بعینہ وہی رقم بنتی تھی ، جو ادا کرنی تھی۔بڑے نشان ہیں، ان باتوں میں خدا کی طرف سے۔جماعت کے لئے حوصلہ افزائی ہے کہ دیکھو، خدا کس طرح اپنی جماعت کے ایک ایک بندے کے دل پر نظر رکھتا ہے۔اجتماعی طور پر اس جماعت کی کیا قیمت ہوگی ، خدا کے نزدیک۔اندازہ تو کریں۔بلکہ اندازہ نہیں کر سکتے۔آپ کے لئے خوشخبری یہ بھی ہے کہ آپ اگر اپنے خلوص کے معیار کو بڑھا ئیں تو ان فکروں سے خدا آپ کو نجات بخشے گا کہ کس طرح ادا ئیگی ہوتی ہے۔اس لئے اگر پہلے وہ معیار نہیں بھی تھا تو اب یہ معیار لے کر دوبارہ نئے ارادے سے خدا کے حضور اپنے وعدوں کی تجدید کریں کہ اے خدا! ہم سے جو غفلت ہوئی سابقہ اب تک ہم نے ان وعدوں کی ادائیگی سے کوتاہی کی ہے یا غفلت کی ہے، پوری اہمیت نہیں دی تو ہمیں اس کی معافی عطا فرما اور آئندہ ہمیں توفیق بخش کہ ہم تیری رضا کے مطابق اس وعدے کو اس سال کے اندر اندر ادا کر دیں۔غیب سے خدا سامان پیدا فرماتا ہے اور غیب پر ایمان لانے کی تعلیم سورۃ بقرہ کی آیت میں ہے:۔الَّذِينَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ (البقرة:04) آغاز میں ہی ہے۔یہاں اس غیب کا بہت وسیع مفہوم ہے۔ایک یہ بھی ہے کہ مومن اس لئے غیب پر ایمان لاتے ہیں کہ ان کے سامنے غیب ہمیشہ حقیقت بنتا رہتا ہے۔جو غیروں کے لئے غیب رہتا ہے یعنی جو سامان نہیں مہیا ہو سکتا ، وہ نہیں مہیا ہو سکتا۔مومن اس لئے ایمان لاتے ہیں کہ خدا اس غیب کو حاضر میں تبدیل فرماتا رہتا ہے، ان کے لئے۔اور وہ کامل ایمان رکھتے ہیں کہ مستقبل کے خدا کے وعدے اسی طرح غیب سے حاضر میں تبدیل ہوتے رہیں گے۔جو چیز دنیا کو نظر نہیں آرہی، وہ مومن کی یقین اور ایمان کی آنکھ دیکھ رہی ہوتی ہے کہ ہے اور لازما ہوگی۔اس یقین کے ساتھ جب آپ دعا بھی کریں گے اور اپنے ارادوں میں ایک تجدید پیدا کریں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ آپ کے وعدے ضرور پورے ہوں گے۔صد سالہ جوبلی کے سیکرٹری کی طرف سے بڑی پریشانی کی رپورٹیں ملتی رہی ہیں کہ دیر ہو رہی ہے۔اور جو سیکرٹریان ہیں مختلف جماعتوں میں، وہ بھی پریشانی کی اطلاعیں دے رہے ہیں۔لیکن مجھے تو کامل یقین ہے کہ جو خدا یہ نمونے دکھا چکا ہے، اس پہ بدظنی کا تو کوئی حق ہی نہیں بنتا۔بلکہ گناہ کبیرہ ہے، 504