تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 499
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جنوری 1987ء سے غائب ہونے لگتا ہے۔اور جب ایک اور پہلو سے دیکھتے ہیں تو اسی وجود کا کل عالم پر محیط ہو جانا ، ایک تقدیر مبرم دکھائی دیتی ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ جس ذرہ لاشی کو چن لیتا ہے کہ وہ غالب آئے اور وہ پھیلے تو اس کا کل عالم پر محیط ہونا، ایک ایسی تقدیر ہے، جو دنیا کی کسی قوت میں، طاقت میں نہیں ہے کہ وہ اسے بدل سکے یا اس کی راہ میں روک ڈال سکے۔پس جہاں یہ غور ہمیں انکسار سکھاتا ہے، وہاں اس انکسار کو مزید غور ایک عظیم اور نئی طاقت بھی بخشتا ہے۔اور وہ طاقت ہمارے وجود کی طاقت نہیں بلکہ خدا کے وجود کی طاقت ہے اور اسی میں ہماری ساری ترقی کا راز ہے۔اس موازنے میں ہی وہ ہماری زندگی کا فلسفہ اور ہمارے غلبہ کا فلسفہ ہے۔جب تک احمدی اپنے وجود کو انکسار کی حالت میں دیکھتے ہوئے لاشئی نہ سمجھنے لگے اور اس خلا کو جو اس کے وجود کے غائب ہونے سے پیدا ہوا ہے، اسے خدا کی طاقت سے نہ بھر لے، اس وقت تک وہ غلبہ ، جو ہمارے ذریعے مقدر ہے، وہ منصہ شہود پر ابھر نہیں سکتا۔وہ خواب کی دنیا میں رہے گا، وہ حقیقت نہیں بن سکتا۔انفرادی طور پر بھی یہ ضروری ہے اور اجتماعی کوششوں میں بھی یہ ضروری ہے۔کیونکہ اس کے نتیجے میں کچی دعا پیدا ہوتی ہے۔جب ایک انسان اپنے آپ کو لاشئی سمجھتا ہے اور جس مقصد کی خاطر اس نے کام کرنا ہے ، وہ سارا خدا کا مقصد ہے تو خدا اس کے وجود کو اپنے وجود سے بھرتا ہے۔اس کے سب ارادوں میں خدا داخل ہونے لگ جاتا ہے، اس کی ہر کوشش میں خدا شامل ہو جاتا ہے اور پھر اس انکساری کے نتیجے میں دعا پیدا ہوتی ہے۔اور دعا بھی ایسی کہ جس میں سب کچھ خدا پہ چھوڑ دیا جاتا ہے۔اگر انسان اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہو مثلاً کچھ لوگ موٹر کو دھکا لگارہے ہیں، وہ نکل نہیں رہی تو وہ سمجھتے تو یہی ہیں کہ تھوڑے سے زور کی اور ضرورت ہے۔ایک مسافر، ایک راہ گیرا گر شامل ہو جائے تو وہ تھوڑ اساز ورز ائدیل جائے گا۔تو وہ مطالبہ وہی کرے گا ، جس زور کی اس کو ضرورت ہے۔ایک ہاتھ کی طاقت چاہئے تو ایک ہاتھ کو بلائے گا ، دو ہاتھوں کی طاقت چاہئے تو دو ہاتھوں کو بلائے گا۔لیکن اگر ایک وجود ایسا ہو، جو اپنے کوکلیۂ لاشئی اور بے طاقت سمجھتا ہو، اس کی دعا سب کچھ کے لئے ہوگی۔اس کی التجا یہ ہوگی کہ مجھے ساری طاقت دو۔میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔تو طاقت میں جو قوت اور عظمت پیدا ہوتی ہے وہ انکسار کامل سے پیدا ہوتی ہے۔اس لئے غلبہ اسلام کی صدی کی تیاری کے لئے میرا سب سے پہلا پیغام یہ ہے کہ ان معنوں میں اپنے اندر انکسار پیدا کریں اور ان معنوں میں اپنی دعاؤں کا معیار اونچا کرتے چلے جائیں اور دعاؤں کا دائرہ وسیع کرتے چلے جائیں، اپنے لئے بھی اور جماعت کے لئے بھی۔ہر پہلو سے اللہ تعالیٰ سے کامل 499