تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 498 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 498

خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جنوری 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم دین کے ساتھ رسول کا ایک بہت ہی گہرا تعلق ہوتا ہے اور رسالت کے بغیر حقیقی دین دنیا میں نافذ ہوہی نہیں سکتا۔اور جب دین بگڑے تبھی رسالت کے اعادہ کی ضرورت پیش آتی ہے۔پس جب ہم کہتے ہیں کہ اس آیت میں اسلام کے غلبہ کی پیشگوئی فرمائی گئی ہے تو مراد محض اسلام نام کے غلبہ سے نہیں بلکہ اس اسلام کی پیشگوئی فرمائی گئی ہے، جس کے مظہر اتم اور مظہر کامل حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔جن کے غلبہ کے بغیر محض دین کا غلبہ کوئی بھی حقیقت اور کوئی بھی معنی نہیں رکھتا۔دین اسلام کا غلبہ اگرمحمد مصطفیٰ کا غلبہ ہے یعنی آپ کی سنت کا غلبہ ہے، اس دین کا غلبہ ہے، جسے آپ نے سمجھا اور جسے آپ نے نافذ فرمایا۔تو پھر اس غلبہ کی قیمت خدا کی نظر میں ہے ورنہ اس غلبہ کی کوئی بھی حقیقت نہیں۔جماعت احمدیہ کا یہ دعویٰ ہے اور سچا ہے کہ اس عظیم الشان غلبہ کی جو پیشگوئی فرمائی گئی ہے، اس کے لئے ہم غلامان محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو چنا گیا ہے کہ ہم اس غلبہ کو دنیا میں جاری کر کے دکھا ئیں گے اور اپنی زندگی کے وجود کا ہر حصہ اس غلبہ کی راہ میں لٹادیں گے۔اس غلبہ کی خاطر اپنی ساری طاقتیں صرف کریں گے اور جہاں تک ہم سے ممکن ہوگا ، انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی اس غلبہ کے دن نزدیک ترلانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔اس پہلو سے ہماری غلبہ اسلام کی تیاری کی پہلی صدی تقریباً دو سال تک مکمل ہونے والی ہے اور بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں، اس تیاری کے۔حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے بعض بہت ہی خوبصورت اصطلاحوں کا اضافہ کیا۔ان میں سے ایک اصطلاح یہ تھی کہ پہلی صدی احمدیت کی غلبہ اسلام کی تیاری کی صدی ہے اور اس سے بعد میں آنے والی صدی انشاء اللہ تعالیٰ غلبہ کی صدی ہوگی۔اور پھر آخری صدی اس غلبہ کی تکمیل کی صدی ہوگی۔اس پہلو سے جب ہم دیکھتے ہیں تو ان باقی دو سالوں میں ہمارے لئے تیاری کے کام اتنے پڑے ہوئے ہیں کہ وہ ہوش اڑانے والے ہیں۔اتنا کام باقی ہے تیاری کا کہ جب اس پر نظر پڑتی ہے ہر جہت سے تو اس وقت انسان کا وجود سکڑتے سکڑتے ایک ذرہ بے محض رہ جاتا ہے، جس کی طاقت میں کچھ بھی نہ ہو۔کیونکہ جب کام زیادہ ہوں تو اس کی نسبت سے اپنا وجود چھوٹا دکھائی دینے لگتا ہے اور زیادہ کام ہوں تو اپنا وجود اور چھوٹا دکھائی دینے لگتا ہے۔یہاں تک کہ جب میں کاموں پر غور کرتا ہوں تو ساری جماعت احمد یہ جو اس وقت کل عالم میں پھیلی پڑی ہے، وہ سمٹتے سمٹتے میرے وجود سمیت ایک نقطہ لاشئی دکھائی دیتی ہے۔جسے اللہ تعالیٰ کے براہ راست تسلط اور تقدیر کے بغیر دنیا میں وہ کام کرنے کی توفیق نہیں مل سکتی ، جس کا ارادہ لے کے ہم اٹھیں ہیں۔اس پہلو سے جب ہم دیکھتے ہیں تو ہمارا وجود لاشئی تک پہنچ کر نظر 498