تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 497
تحریک جدید - ایک الہی تحریک خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جنوری 1987ء صد سالہ جو بلی فنڈ کی ادائیگی کا جائزہ اور قربانی کی تحریک خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جنوری 1987ء تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کریمہ کی تلاوت کی:۔هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ پھر فرمایا:۔(القف: 10) اہے۔قرآن کریم میں متعدد جگہ اسلام کے عالمی غلبہ کی پیشگوئی کی گئی ہے۔اور یہ آیت جس کی میں نے تلاوت کی ہے، اس میں بھی اس پیشگوئی کو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلبہ کے طور پر ظاہر فرمایا گیا ہے:۔هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ یہاں ضمیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھیری گئی ہے اور دین کی طرف بھی پھیری گئی۔عموماً اس آیت کا ترجمہ آپ کو تراجم میں یہی ملے گا کہ وہ خدا، جس نے اس رسول یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ وہ دین حق کا غلبہ تمام دیگر ادیان پر فرمائے۔لیکن یہ قرآن کریم کا ایک عجیب اسلوب ہے کہ جہاں جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے بعد کتاب یا دین کا ذکر ملتا ہے ، وہاں ضمیر کو اس طرح کھلا چھوڑ دیا گیا کہ دونوں طرف ضمیر لگتی ہے۔اور قرآن کریم کی دوسری آیات اس بات کو تقویت دیتی ہیں کہ ضمیر کا دونوں طرف پھیرنا جائز ہے۔بلکہ مفہوم میں داخل ہے۔پس اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں اور کامل یقین رکھتا ہوں کہ یہاں جس غلبہ کی پیشگوئی فرمائی گئی ہے، وہ صرف دین کا غلبہ نہیں بلکہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلبہ ہے۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دین بے رسول کے بے حقیقت اور بے معنی چیز ہے۔وہی دین آج بھی ہے لیکن رسول نہ ہونے کی وجہ سے اس کی مختلف شکلیں بنادی گئی، مختلف جہتوں سے اس کو دیکھا گیا اور ہر جہت سے وہ مختلف نظر آنے لگا۔وہ ظاہر موجود ہے لیکن اس کی روح اٹھ گئی ہے۔اس لئے 497