تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 488 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 488

ارشادات فرموده دوران مجالس عرفان 1986ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم وقت ان کی سب سے شدید خواہش یہ ہے کہ سفید فام امریکن کے برابر حقوق حاصل کریں۔لیکن کوئی بھی سیاسی تحریک ان کا مقصد پورا نہیں کر سکتی تھی۔اس لئے انہوں مذہب کی آڑ لے کر بلیک مسلم کی تحریک چلائی۔ان کو یہ بھی اچھی طرح معلوم تھا کہ قرآن کریم اور احادیث نبویہ کی پیروی امریکنوں کے لئے بہت مشکل ہوگی کیونکہ وہ آزادانہ زندگی کے دلدادہ ہیں، اس لئے انہوں نے اسلام کو ایک ایسے سانچے میں ڈھال کر امریکنوں کے سامنے پیش کیا ، جس میں خدا اور رسول کے احکامات کی پیروی کی بجائے غیر مسلموں سے نفرت پر زور دیا گیا۔اور مذہب کی آڑ لے کر یہ تحریک دراصل سفید فام امریکنوں کے خلاف چلائی گئی۔اس دوران مسلمان ممالک نے جو تیل کی وجہ سے امیر ہو گئے تھے، اپنے مقاصد کے لئے کالے امریکنوں کو سفید فام امریکنوں کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دیا۔اس صورت حال کو دیکھ کر بے شمار کا لے امریکن اس طرف متوجہ ہو گئے۔ان کو پیسے کی کمی بھی نہ تھی اور سب کچھ کرنے کی کھلی چھٹی تھی۔جبکہ احمدی بننے کے بعد مالی قربانی بھی کرنی پڑتی تھی اور خواہشات پر بھی پابندی لگانی پڑتی تھی۔ایک سچا مسلمان دنیاوی لحاظ سے بعض معاملات میں پابند ہے لیکن دوسری طرف وہ دنیاوی خواہشات سے بالکل آزاد ہے۔اور صرف اللہ تعالیٰ کی مرضی کا تابع ہے۔جو لوگ صحیح اسلام کی روح سے واقف نہیں، وہ الائجا کے اسلام کو ترجیح دیتے ہیں۔لیکن اب پانسہ پلٹنا شروع ہو گیا ہے اور پیسے کی ریل پیل بھی نہیں رہی اور لوگ بھی اس کھیل سے اکتا گئے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت بتدریج ترقی پذیر ہے۔اور بلیک مسلم تحریک کے ذریعہ جماعت احمدیہ کو جو نقصان پہنچا تھا، اس کی اب تلافی شروع ہو گئی ہے اور لوگ دوبارہ احمدیت میں دلچسپی لے رہے ہیں۔05اپریل مطبوعہ ہفت روزہ النصر 28 مارچ 1986 ء ) سوال: جماعت احمدیہ کے شائع کردہ تراجم قرآن کی صحت کا معیار کیا ہے؟ فرمایا: "جماعت احمدیہ کے زیر نگرانی قرآن کریم کے جو انگریزی تراجم کئے گئے ہیں، وہ اللہ تعالی کے فضل سے نہایت اعلیٰ پایہ کے ہیں۔کیونکہ جن بزرگوں نے وہ تراجم کئے ہیں، ان کو نہ صرف انگریزی زبان پر عبور حاصل تھا بلکہ وہ قرآن کریم کے گہرے علم سے کما حقہ واقفیت رکھتے تھے۔مختلف سکالرز نے ان تراجم کی بہت تعریف کی ہے۔حتی کہ عرب محققین نے جو عربی زبان کے ماہر ہیں، ان تراجم کو سراہا ہے۔حال ہی میں ایک یونیورسٹی کے پروفیسر نے تحقیق کر کے ایک عالمانہ مضمون لکھا ہے، جس میں اس نے آج تک کے تمام کئے جانے والے انگریزی تراجم قرآن کریم میں سے حضرت مولوی شیر علی 488