تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 460 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 460

خطبہ جمعہ فرموده 131 کتوبر 1986ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم کہ یقینا اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانیں بھی خرید لی ہیں اور ان کے اموال بھی خرید لئے ہیں، اس وعدے پر کہ یقینا ان کے لئے جنت ہوگی۔پس وہ جنت تو بعد میں آئے گی۔اس دنیا میں خدا ہمیں روحانی قربانیوں کی لذتوں کی جنت عطا کرتا چلا جارہا ہے۔جو روحانی قربانیوں میں شامل ہو گئے ہیں، ان کا معیار پہلے سے ہر لحاظ سے بڑھ رہا ہے۔اور جو زندگی کا سکون ان کو ملا ہے، جو طمانیت نصیب ہوئی ہے، جن لذتوں میں اب وہ وقت گزار رہے ہیں، اس سے پہلے کی حالت کے ساتھ اس کا کوئی موازنہ ہی نہیں کیا جا سکتا۔مالی قربانی میں اگر کوئی تکلیف ہوتی یا جانی قربانی میں اگر کوئی دکھ پہنچتا تو ایک دفعہ تجربہ کرنے کے بعد جماعت کو پیچھے ہٹ جانا چاہئے تھا۔جو لوگ آگے بڑھتے ، وہ اگلی دفعہ تو بہ کرتے اور کہتے کہ بس ہو گیا، جو ہم سے ہونا تھا۔اب آئندہ ہم سے یہ توقع نہ رکھیں۔ایک سال بڑی مشکل سے گزارہ کر لیا۔اس کے برعکس اگلے سال پہلے سے بڑھ کر اور اس سے اگلے سال اس سے بڑھ کر وہ دونوں قسم کی قربانیوں میں حصہ لیتے ہیں۔اور پھر یہ دعائیں کرواتے ہیں کہ خدایا ہمیں اور توفیق عطا دے، ابھی ہمارے دل کی حسرت پوری نہیں ہوئی۔پس یہ عجیب قسم کا پانی ہے، جو سمندر کے پانی کا سامزاج بھی رکھتا ہے اور اس کے برعکس نتیجے بھی پیدا کرتا ہے۔دنیا میں اس پانی کی مثال نہیں ملتی۔سمندر کا پانی پیاس بڑھانے میں مشہور ہے۔پیاسا جتنا بھی اس کو پٹے ، پیاس بڑھتی چلی جاتی ہے۔لیکن ساتھ ہی وہ ایک آگ بھی لگاتا چلا جاتا ہے، بے چینی اور بے قراری بھی بڑھاتا چلا جاتا ہے۔مگر خدا کی راہ میں قربانیوں کا پانی، ایک عجیب پانی ہے کہ جتنا آپ اسے پیتے چلے جاتے ہیں، پیاس تو آپ کی بڑھتی چلی جاتی ہے مگر بے چینی کم ہوتی چلی جاتی ہے، بے قراری کم ہوتی چلی جاتی ہے اور لذت اور طمانیت اور سکینت بڑھتی چلی جاتی ہے۔پس یہ عجیب پیاس ہے، جس کی کوئی مثال نہیں۔اور یہ عجیب پانی ہے، جس جیسا کوئی پانی دنیا میں کسی نے نہیں دیکھا۔پس اللہ کے فضل کے ساتھ اس آب حیات کو پیتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جاؤ۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے خدا کے ان وعدوں پر یقین رکھو کہ تم ہی ہو ، جنہوں نے اس ساری کائنات کا نقشہ بدلنا ہے اور تمہارے سوا اور کوئی نہیں“۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا:۔میں نے بار باید تاکید کی ہے کہ جن ملکوں میں ہم رہتے ہیں، اگر مقرران کی زبان جانتا ہے تو خواہ ٹوٹی پھوٹی ہی ہو، اسے وہی زبان استعمال کرنی چاہئے۔اور مبلغین کو خصوصیت کے ساتھ مقامی ملکوں کی زبان استعمال کرنی چاہئے۔اور اگر ان کو ابھی نہیں آتی اور اتنی بھی نہیں آتی کہ وہ اس میں مافی الضمیر بالکل ادا 460