تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 453
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد خطبه جمعه فرموده 31 اکتوبر 1986ء میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ بڑھ کہ 55,64,000 روپے کے وعدے بن گئے۔گویا فیصد اضافہ 26 فیصد ہوا۔پاکستان کے موجودہ حالات میں جماعت جس قسم کی مشکلات کا شکار ہے، اس میں اقتصادی مشکلات بھی بہت نمایاں طور پر سامنے آرہی ہیں۔بے وجہ احمدی ہونے کے جرم میں نوکریوں سے نکالے جانا، با وجود اول حق رکھنے کے نوکریاں نہ دلوانا، تجارتوں میں نقصانات اور دیگر کئی قسم کی مخالفانہ کوششیں ، جو اقتصادیات پر برا اثر ڈالتی ہیں، مثلاً بعض دکانوں کے بائیکاٹ ، بعض تجارتوں کے بائیکاٹ ، ان سب باتوں کے باوجود مسلسل خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ پاکستان کی قربانی کا قدم آگے بڑھتا چلا جارہا ہے۔اور ایک ہی سال میں 26 فیصد اضافے کے ساتھ وعدہ جات پیش کرنا ، خدا تعالیٰ کے خاص فضل کے بغیر ممکن نہیں۔وصولی کی رفتار کے متعلق بھی وہاں کی اطلاع یہی ہے کہ ہم امید یہ رکھ رہے ہیں کہ انشاء اللہ جب سب کو ائف اکٹھے ہو جائیں گے، کیونکہ آخری دن تک سب جماعتوں کی طرف سے اطلاعیں نہیں ملا کرتیں۔تو ان کی توقع یہ ہے کہ وعدوں سے بھی انشاء اللہ وصولی آگے بڑھ جائے گی۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ امید لگارہے ہیں، گزشتہ سال کی تدریجی آمد سے موازنہ کر کے کہ اگر چہ وعدے تو پچپن لاکھ کچھ کے ہیں لیکن توقع یہی ہے کہ وصولی انشاء اللہ ساٹھ لاکھ تک پہنچ جائے گی۔وعدوں میں جن جماعتوں نے نمایاں قربانی کا نمونہ دکھایا ہے اور خدا کے فضل سے بہت نمایاں طور پر آگے قدم بڑھایا ہے، ان میں کراچی، ملتان، ساہیوال، پشاور اور راولپنڈی اور بہاولنگر کا نام خاص طور پر قابل ذکر ہے۔آپ کو یاد ہوگا کہ کچھ سال سے میں اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ وہ بزرگ، جنہوں نے دفتر اول کی بنیاد ڈالی تھی۔یعنی تحریک جدید کے پہلے سال میں جو تحریک جدید میں شامل ہوئے تھے، ان کی قربانیوں کا ہی یہ پھل ہے کہ آج ساری دنیا میں جماعت احمدیہ کی اتنی غیر معمولی ترقی ہورہی ہے اور سو سے زائد ممالک میں جماعت احمدیہ قائم ہو چکی ہے۔اس لئے ان کے کھاتوں کو تو ہمیں بہر حال زندہ رکھنا چاہئے۔اور ان کی یاد کو دعاؤں کی خاطر قیامت تک آگے بڑھاتے جانا چاہئے۔ہر نسل ان کو یادر کھے اور آنے والی نسلیں ان کے لئے دعائیں کرتی رہیں اور ان پر سلام بھیجتی رہیں کہ ان کی ابتدائی قربانیوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا میں اسلام کے غلبہ کی داغ بیل ڈالی۔چنانچہ اس دفعہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین سال میں بفضلہ تعالیٰ 1150 کھاتے بحال ہو چکے ہیں۔اور گزشتہ سال کے دوران 337 کھاتے بحال ہوئے۔مشکل یہ ہے کہ بہت سے بزرگ ایسے ہیں، جنہیں فوت ہوئے ، 40-30 سال بھی ہو چکے ہیں اور ان کی اولادوں کا پتہ نہیں لگ رہا کہ وہ کہاں 453