تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 437
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد ہفتم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 124 اکتوبر 1986ء احمدی گھر آج جنت کا نمونہ بن چکے ہیں۔میں کسی ایک ملک میں بھی یہ اعلان نہیں کر سکتا، نہ پاکستان میں کر سکتا ہوں، نہ ہندوستان میں کر سکتا ہوں، نہ انگلستان میں کر سکتا ہوں، نہ چین یا جاپان یا جرمنی میں کر سکتا ہوں۔کیونکہ روزانہ مجھے کثرت کے ساتھ ایسے خطوط موصول ہوتے ہیں، جن سے پتہ چلتا ہے کہ یا مرد عورت کے مظالم کا شکار ہے یا عورت مرد کے مظالم کا شکار ہے۔یا مرد کسی دوسرے مرد کے مظالم کا شکار ہے یا عورت کسی دوسری عورت کے مظالم کا شکار ہے۔پس منہ سے کہہ دینا کہ ہاں عائلی امن ہمیں نصیب ہوگا تو دنیا میں ہم امن پیدا کر دیں گے، ہم دنیا پر اسلام کی برتری ثابت کر دیں گے ، آسان کام نہیں ہے۔لیکن جتنی محنت یہ کام چاہتا ہے، اس محنت کا نقشہ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ میں صبر کے حصے نے ہمارے سامنے کھول دیا ہے۔بڑے صبر کی ضرورت ہے۔مجھے بھی صبر کی ضرورت ہے کہ میں جو نصیحت کروں، وہ کرتا جاؤں اور نہ تھکوں اور نہ مایوس ہوں۔اور آپ کو بھی صبر کی ضرورت ہے کہ اپنی کوششوں میں صبر اختیار کریں۔ہر وقت اپنا جائزہ لیتے رہیں اور اگر آپ کے گھروں میں بدامنی کے آثار پائے جاتے ہیں تو چین سے نہ بیٹھیں ، جب تک اس بدامنی کے آثار کو زائل نہ کرلیں، ان کو ملیا میٹ نہ کر دیں۔آپ نے اسلام کی وہ جنت، جو اسلام دنیا میں بنانے کا دعویٰ کرتا ہے، پہلے اپنے گھروں میں بنا کر دکھانی ہے۔اگر یہ جنت آپ کے گھروں کو نصیب نہ ہوئی تو یقینا دنیا کو آپ سے کسی قسم کی جنت کی امید رکھنا، ایک امید باطل کا قصہ ہوگا، ایک موہوم خیال ہوگا۔دنیا پاگل ہوگی اگر آپ سے امن کی توقع رکھے، اگر آپ نے خود اپنے گھروں کو امن عطا نہیں کیا۔اس لئے ایک نہایت ہی اہم بات ہے، ایک ایسا نکتہ ہے، جسے سمجھ کر اس پر عمل کرنے کے نتیجہ میں آپ عظیم الشان فتوحات حاصل کر سکتے ہیں۔لیکن اسے نظر انداز کرنے کے نتیجہ میں جس طرح بارہا آپ نظر انداز کرتے رہے ہیں اور کرتے چلے جارہے ہیں، آپ اسی جگہ ڈھونڈتے پھرتے رہیں گے اور ترقی کی وہ نئی راہیں آپ پر نہیں کھلیں گی، جن راہوں پر چلنے کے بعد آپ ایک ایسے مقام پر پہنچ کر دنیا کو دیکھ سکتے ہیں کہ دنیا آپ کو اپنی فتوحات کے قدموں کے دامن میں بچھی ہوئی دکھائی دے۔اس لئے دعائیں کریں اور استغفار کریں اور دیانت داری کے ساتھ ان نظریاتی بلند باتوں کو سادہ عام عمل کی دنیا میں اتارنے کی کوشش کریں۔جب تک روز مرہ کی زندگی میں یہ باتیں رائج ہوتی دکھائی نہیں دیتیں، اس وقت تک اسلام کا یہ دعویٰ کہ وہ دنیا کو امن عطا کر دے گا، یہ دعوی سچا ثابت نہیں ہو سکتا۔( مطبوعہ خطبات طاہر جلد 105 صفحہ 712 تا 715) 437