تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 435 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 435

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 24 اکتوبر 1986ء آئندہ فتح و شکست کا فیصلہ نظریات کی دنیا میں نہیں ہوگا عمل کی دنیا میں ہوگا وو خطبہ جمعہ فرموده 124اکتوبر 1986ء پس یہ جو دنیا میں نظریات کی جنگیں ہو رہی ہیں یا آئندہ دنیا کے نقشوں کی باتیں ہو رہی ہیں، اس میں فتح و شکست کا فیصلہ نظریات کی دنیا میں نہیں ہوگا، عمل کی دنیا میں ہوگا۔اور عمل کی دنیا میں خواہ ایک جماعت چھوٹی بھی ہو، اگر وہ اسلام کے نظریات کو اپنے اعمال کی دنیا میں ڈھال لے گی، اگر اسلام صرف قرآن کا اسلام نہیں رہے گایا نام کا اسلام نہیں رہے گا بلکہ کسی جماعت کے اندر راسخ اور رائج ہو جائے گا، اس کے خون میں گھل مل جائے گا، اس کے اعمال میں ڈھل جائے گا، اس کی صورتوں سے ظاہر ہونے لگے گا، اگر خود اس جماعت کو امن نصیب ہوا اندرونی طور پر بھی اور بیرونی طور پر بھی تو پھر یقیناً ایسی جماعت إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ کے استثناء کے تابع دنیا میں بالآخر برومند اور فتح مند ہونے والی جماعت ثابت ہوگی۔اور اگر خدانخواستہ ایسا واقعہ نہ ہو تو قرآن تو بہر حال سچا نکلے گا مگر وہ جماعتیں ضرور مٹادی جائیں گی۔اور ان کی جگہ خدا اور جماعتیں لے آئے گا، جن کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے قرآن کی سچائی کو بہر حال دنیا میں ثابت کرنا ہے۔جرمنی میں بسنے والے احمدی ہوں یا یورپ کے دیگر جماعتوں کے بسنے والے احمدی ہوں، جو آج اس خالصہ دینی اجتماع کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں، یہی میرا ان کے نام پیغام ہے کہ آج آپ امن کے محافظ کے طور پر دنیا میں قائم کئے گئے ہیں۔آج اسلام کے نمائندہ اور ایمبیسیڈر (Embassider) اور سفراء کے طور پر آپ دنیا میں نکلے ہیں۔جہاں کہیں سے بھی آپ آئیں، جہاں کہیں بھی آپ جانے والے ہیں، آپ کی یہ حیثیت اولین حیثیت ہونی چاہئے کہ آپ اسلام کے سفیر ہیں۔یعنی امن کے سفیر ہیں۔اور اس امن کے سفیر ہیں، جو واقعاتی طور پر آپ نے پالیا ہے، آپ کی زندگیوں میں راسخ ہو چکا ہے۔اس امن کی تلاش کرتے رہیں، جب تک وہ امن آپ کو نصیب نہ ہو۔اور دنیا کو موقع دیں کہ وہ امن آپ سے حاصل کرے۔اس حیثیت میں زندہ رہیں گے تو آپ یقینا ایک فاتح کی حیثیت میں زندہ رہیں گے۔اور قرآن کریم کے اسلوب سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جب بھی خدا ایسے استثناء بناتا ہے، 435